عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء

حقہ پینے کا حکم

فتوی نمبر :
1570
حظر و اباحت / حلال و حرام / عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء

حقہ پینے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا تمباکو والا حقہ پینا جائز ہے یا نہیں وضاحت فرمائیے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حقہ پینا بذاتِ خود حرام نہیں، تاہم اسے کھانے پینے کی عام اشیا کی طرح حلال بھی نہیں کہا جا سکتا، یہ نیک اور صالح لوگوں کا معمول نہیں، بلکہ منہ کی بدبو اور ناپسندیدگی کا باعث بنتا ہے، اسی وجہ سے بعض فقہا نے اسے مکروہِ تنزیہی قرار دیا ہے۔

حوالہ جات

*تکملة حاشیة ابن عابدین:(15/7،ط: دار الفكر )*
قلت: وألف في حله أيضاً سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ولا دليل على ذلك فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره بل ثبت له منافع فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لايلزم منه تحريمه على كل أحد فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي.

*الموسوعة الفقهية:(108/10،ط: وزارة الاوقاف والشؤون الاسلاميةالكويت)*
کذلک لایجوز لشارب الدخان دخول المسجد حتي تزول الرائحة من فمه قیاسا علي منع آکل الثوم والبصل من دخول المسجد حتي تزول الرائحةواعتبر الفقھاءان وجود الرائحة ۔۔۔ ولایختص المنع بالمساجدبل انه یشمل مجامع الصلاۃ غیر المساجد ،کمصلي العیدوالجنائز ونحوھامن مجامع العبادات،وکذا مجامع العلم والذکر ومجالس قراءۃ القرآن ونحوھاھذا مع اختلاف الفقھاء في منع من في فمه رائحة الدخان من دخول
المسجداومجامع العبادات ومجالس القرآن فحرمه الحنفیة والمالکیة وکرھه الشافعیة والحنابلة.

*فتاوی رشیدیة:( 552ط،ط:اداری صدائے دیوبند)*

سوال: حقہ پینا، تمباکو کا کھانا یا سونگھنا کیسا ہے؟ حرام ہے یا مکروہ تحریمہ یا مکروہ تنزیہہ ہے؟ اور تمباکو فروش اور نیچے بند کے گھر کا کھانا کیسا ہے؟
جواب: حقہ پینا، تمباکو کھانا مکروہِ تنزیہی ہے اگر بو آوے، ورنہ کچھ حرج نہیں اور تمباکو فروش کا مال حلال ہے، ضیافت بھی اس کے گھر کھانا درست ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
34
فتوی نمبر 1570کی تصدیق کریں