عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء

سیٹیریل الکوحل کاشرعی حکم

فتوی نمبر :
1409
حظر و اباحت / حلال و حرام / عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء

سیٹیریل الکوحل کاشرعی حکم

جناب سوال یہ ھیکہ سردیوں میں ہمارے گھر جو لوشن اور کریم وغیرہ آتے ہیں ان میں cetyl alcohol شامل ہوتا ہے جو کہ ایک طریقے کا Alcohol ہی ہوتا تو کیا ان کریم اور لوشن کو لگا کر نماز اور قرآن کی تلاوت کر سکتے ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ الکحل کی تین قسمیں ہیں:
(1)وہ الکحل جو منقی ،انگور،کھجور یا چوہارےکے شراب سے ھاصل کیا گیا ہو،ایسا الکحل بالاتفاق ناپاک ہے،اس کا کسی بھی قسم استعمال اور خریدوفروخت ناجائز و حرام ہے۔
(2)وہ الکحل جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلا آلو ،شہد،گنا یا سبزی وغیرہ حاصل کیا گیا ہوتو ان کا استعمال جائز ہے جب تک نشہ آور نہ ہو۔
(3)آج کل الکحل کی ایک اور قسم ہے جو کیمیکل سے بنایاجاتاہے،اس کا شراب وغیرہ سےکوئی تعلق نہیں ہے ،اس کا استعمال جائز ہے۔
البتہ عام طور پر استعمال ہونے والی اشیا پرفیوم وغیرہ میں جو الکحل استعمال ہوتاہےوہ انگوریاکھجور سےحاصل نہیں کیاجاتا،خاص طورجو سیٹیریل الکوحل لوشن اورکریم وغیرہ میں استعمال ہوتا ہےوہ تحقیق کے مطابق ناریل کےتیل اور پام آئل سے تیار کیاجاتاہے،اس لیےوہ پاک ہے اور ان کا استعمال جائز ہےـ

حوالہ جات

*تكملة فتح المنعم:(408/3،ط:دارالعلوم)*
"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.
و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع".

*الشامية: (6/ 459،ط:دارالفكر)*
الأصل ‌في ‌الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
48
فتوی نمبر 1409کی تصدیق کریں