قسم کا کفارہ

گناہ سے قسم کھاکر توبہ کرنا اور پھر متعدد بار اپنی قسم کو توڑنے کا حکم

فتوی نمبر :
1548
عقوبات / کفارات / قسم کا کفارہ

گناہ سے قسم کھاکر توبہ کرنا اور پھر متعدد بار اپنی قسم کو توڑنے کا حکم

حضرت مفتی صاحب !
ایک نوجوان لڑکا کسی بڑے گناہ میں مبتلاہے بار بار اس گناہ سے توبہ کرتا ہے اور قسم کھا کر توبہ کرتا ہے اور پھر چند دن کے بعد اس قسم کو توڑ کر دو بارہ اس گناہ کو کر جاتا ہے ، اور اب اسے یاد بھی نہیں کہ کتنی مرتبہ اس نے اپنی قسم کو توڑا ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ ان کی ا س قسم پر کفارہ لازم ہوگا یا نہیں ؟ اور ان اگر لازم ہے تو ان کو یاد نہیں کہ کتنے قسم توڑے ہیں تو کفارے ادا کرنے کی کیا صورت ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ پوچھی گئی صورت میں اس لڑکے پرایک ہی کفارہ لازم ہے اور کفارے کی صورت یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے ، یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے ، اگر ان دونوں باتوں کی استطاعت نہ ہو تو پھر تین دن متواتر روزے رکھے ۔

حوالہ جات

الشامية : (3/ 714، ط: دارالفكر)
(قوله ‌وتتعدد ‌الكفارة لتعدد اليمين) وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع.

فتح القدير للكمال بن الهمام: (5/ 202، ط:دارالفكر)
(وإن حلف ليفعلن كذا ‌ففعله ‌مرة ‌واحدة بر في يمينه) لأن الملتزم فعل واحد غير عين، إذ المقام مقام الإثبات فيبر بأي فعل فعله، وإنما يحنث بوقوع اليأس عنه وذلك بموته أو بفوت محل الفعل.

الهندية: (2/ 61، ط: دارالفكر)
وهي أحد ثلاثة أشياء ‌إن ‌قدر ‌عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين لكل واحد ثوب فما زاد وأدناه ما يجوز فيه الصلاة أو إطعامهم والإطعام فيها كالإطعام في كفارة الظهار هكذا في الحاوي للقدسي.وعن أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى إن أدنى الكسوة ما يستر عامة بدنه حتى لا يجوز السراويل وهو صحيح كذا في الهداية.فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات وهذه كفارة المعسر والأولى كفارة الموسر وحد اليسار في كفارة اليمين .

مجمع الأنهر : (1/ 541، ط: دار إحياء التراث العربي )
(ولا فرق ‌في ‌وجوب ‌الكفارة بين العامد والناسي) فسره صاحب الدرر بالمخطئ؛ لأن الحلف ناسيا لا يتصور إلا أن يحلف أن لا يحلف ثم نسي فحلف خلافا للشافعي (والمكره في الحلف والحنث) أي لا فرق في وجوبها بين المكره فيهما وغيره أما في الحلف فلقوله عليه الصلاة والسلام ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق واليمين .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
43
فتوی نمبر 1548کی تصدیق کریں