قسم کا کفارہ

کسی اور کو قسم دینے کا حکم

فتوی نمبر :
1246
عقوبات / کفارات / قسم کا کفارہ

کسی اور کو قسم دینے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایسا ہے کہ ایک بچی نے مجھے قسم دی کہ میں اس کی بات کسی کو نہ بتاؤں یعنی کہ اسے کسی فرینڈ نے ڈرگ دی اور اس نے پی لی، میں نے اس کے والدین کو اس لیے بتا دیا تاکہ وہ اپنی بچی کو سنبھالیں دیکھیں اس پہ نظر رکھیں، تاکہ آئندہ کے لیے وہ ایسی حرکت نہ کرے اور بچی کو اعتماد میں لے کر یہ کہا کہ وہ خود اپنے پیرنٹس کو بتائے تو بچی نے چونکہ مجھے قسم دی تھی تو میں نے اس کے والدین کو بتا دیا کہ ابھی اس کی دی گئی قسم کا کوئی کفارہ ہوگا؟ یا کیا کرنا ہوگا؟
رہنمائی کیجئے۔ جزاکم اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شرعاً محض کسی شخص کے قسم دینے سے قسم لازم نہیں ہوتی، جب تک مخاطَب خود زبان سے قسم نہ کھائے یا اس کے کہنے پر ہاں کہہ کر قسم کو اپنی طرف منسوب نہ کرے، یعنی اگر کوئی کہے: اللہ کی قسم کھاؤ اور دوسرا شخص خاموش رہے یا دل میں ارادہ نہ کرے تو شرعاً وہ قسم نہیں کہلاتی، قسم تبھی معتبر ہوتی ہے، جب آدمی خود نیت و ارادہ کے ساتھ اللہ کا نام لے کر قسم کھائے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے قسم نہیں کھائی اور اس کے جواب میں ہاں بھی نہیں کہی تو قسم منعقد نہیں ہوئی، لہذا کوئی کفارہ نہیں۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(280/1،ط:دار الكتب العلمية)*
اليمين) لغة: القوة.وشرعا: (عبارة عن عقد قوي به عزم الحالف على الفعل أو الترك) فدخل التعليق فإنه يمين شرعا، إلا في خمس مذكورة في الاشباه، فلو حلف لا يحلف حنث بطلاق وعتاق.

*الشامیة:(849/3،ط: دارالفكر)*
فإن نوى الاستحلاف فلا شيء على واحد منهما خانية وفتح أي لأن المخاطب لم يجبه بقوله نعم حتى يصير حالفا.

*الهندية:(6072،ط: دارالفكر)*
رجل قال لآخر: والله لتفعلن كذا والله لتفعلن كذا فقال الآخر: نعم إن أراد المبتدئ الحلف وأراد المجيب الحلف يكون كل واحد منهما حالفا وإن نوى المبتدئ الاستحلاف ونوى المجيب الحلف فالمجيب حالف وإن لم ينو كل واحد شيئا ففي قول الله الحالف هو المجيب وفي قوله والله مع الواو الحالف هو المبتدئ وإن أراد المبتدئ أن يكون مستحلفا وأراد المجيب أن لا يكون عليه يمين ويكون قوله نعم على ميعاد من غير يمين فهو كما نوى ولا يمين على واحد منهما كذا في الخلاصة وهكذا في الوجيز للكردري ومحيط السرخسي.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
53
فتوی نمبر 1246کی تصدیق کریں