سوال:ایک ساتھی پوچھتے ہیں کہ زکوٰۃ عام طور پر سال کے آخر میں حساب لگا کر نکالی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی شخص سال پورا ہونے سے پہلے کسی ضرورت مند کو زکوٰۃ دینا چاہے (مثلاً اپنی ضرورت کے پیشِ نظر پہلے ہی زکوٰۃ ادا کر دے) تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
واضح رہے کہ اگر سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ ادا کردی جائے تو وہ ادا سمجھی جائے گی ،البتہ سال کے اختتام پر حساب کرنا ضروری ہے، تاکہ اگر واجب مقدار سے کم زکوٰۃ دی گئی ہو تو باقی ادا کردی جائے اور اگر زیادہ ادا کردی ہو تو اختیار ہے، چاہے تو اسے نفلی صدقہ شمار کرلے، چاہے تو آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شامل کرلے۔
*سنن الترمذي:(56/2،رقم الحدیث: 678، ط: دارالغرب الاسلامي)*
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن أخبرنا سعيد بن منصور ، قال: حدثنا إسماعيل بن زكريا ، عن الحجاج بن دينار عن الحكم بن عتيبة عن حجية بن عدي ، عن علي «أن العباس» سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم في تعجيل صدقته قبل أن تحل فرخص له في ذلك.
*الدرمختار مع رد المحتار:(293/2،ط: دارالفکر)*
ولو عجل ذو نصاب) زكاته (لسنين أو لنصب صح)؛ لوجود السبب.
(قوله: ولو عجل ذو نصاب) قيد بكونه ذا نصاب؛ لأنه لو ملك أقل منه فعجل خمسة عن مائتين، ثم تم الحول على مائتين لايجوز.
*الھندیة: (176/1ط: دار الفكر)*
فلو کان عندہ مأتا درہم فعجل زکاۃ ألف فإن استناد مالاً أو ربح حتی صار ألفاً، ثم تم الحول وعندہ ألف، فإنہ یجوز التعجیل وسقط عنہ زکاۃ الألف۔
*المحيط البرهاني:( 267/2،ط: دار الكتب العلمية)*
ويجوز تعجيل الزكاة قبل الحول إذا ملك نصابا عندنا؛ لأنه أدى بعد وجود سبب الوجوب؛ لأن سبب الوجوب نصاب نام؛ فإن نظرنا إلى النصاب فالنصاب قد وجد.