نماز کے دوران موبائل کی گھنٹی بجنے لگے تو کیا کرنا چاہیے میں نے سنا ہے کہ اس دوران گھنٹی بند کرسکتے ہیں اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی کیا یہ درست ہے۔
واضح رہے کہ اگر نماز کے دوران کسی نمازی کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگے تو ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر گھنٹی بند کر دے، موبائل کو جیب سے نکالنا اور اسے دیکھنا درست نہیں، لیکن اگر جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل کی گھنٹی بند کرناںممکن نہ ہو تو ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر مختصر وقت میں اسکرین دیکھے بغیر گھنٹی بند کر دے، لیکن اگرموبائل کوجیب سے نکالنے کے بعددونوں ہاتھوں سے پکڑا یا ایک ہاتھ سے ایسے انداز میں پکڑا کہ دور سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔
اس لیے نمازی کو چاہیے کہ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہی موبائل فون اہتمام اور پابندی سے بند کر ے، تاکہ مسجد کا تقدس پامال نہ ہو اور بے حرمتی نہ ہو اور کسی کے خشو ع وخضوع میں خلل نہ آئے۔
*البحر الرائق:(12/2،ط: دار الكتاب الاسلامي)*
و اتفقوا على أن الكثير مفسد و القليل لا لإمكان الاحتراز عن الكثير دون القليل فإن في الحي حركات من الطبع و ليست من الصلاة فلو اعتبر العمل مفسدا مطلقا لزم الحرج في إقامة صحتها و هو مدفوع بالنص.
*رد المحتار:(654/1 ،ط: دارالفکر)*
بقي في المكروهات أشياء أخر ذكرها في المنية و نور الإيضاح و غيرهما : منها الصلاة بحضرة ما يشغل البال و يخل بالخشوع كزينة و لهو و لعب.
*الھندیة: (101/1، ط: دار الفکر)*
العمل الكثير يفسد الصلاة والقليل لا. كذا في محيط السرخسي واختلفوا في الفاصل بينهما على ثلاثة أقوال۔۔۔۔۔(والثالث) أنه لو نظر إليه ناظر من بعيد إن كان لا يشك أنه في غير الصلاة فهو كثير مفسد وإن شك فليس بمفسد وهذا هو الأصح. هكذا في التبيين وهو أحسن. كذا في محيط السرخسي وهو اختيار العامة كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة.