جوا قمار

لڈو کھیلنے کا حکم

فتوی نمبر :
1206
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / جوا قمار

لڈو کھیلنے کا حکم

سوال یہ ہے کہ ہم کئی ساتھی آپس میں لڈو کھیلتے ہیں، یہ صرف وقت گزاری کے لیے کھیلتے ہیں اور عموماً چار کھلاڑی مل کر یہ گیم کھیلتے ہیں۔ اس بارے میں وضاحت فرما دیں کہ اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے ان کھیلوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جو جسمانی یا ذہنی فائدہ دیتے ہیں، جیسے تیراکی، تیر اندازی اور گھڑ سواری، جبکہ ایسے کھیل ممنوع ہیں جن میں وقت کا ضیاع ہو، گناہ پر مشتمل ہوں یا فساق و فجار کی مشغولیات میں شمار ہوتے ہوں، مثلاً شطرنج وغیرہ۔
کسی کھیل کے جائز ہونے کی شرائط یہ ہیں:
1) کھیل بذاتِ خود جائز ہو۔
2) اس میں کوئی دینی یا دنیاوی منفعت ہو۔
3) غیر شرعی امور شامل نہ ہوں۔
4) اس میں اتنا انہماک نہ ہو کہ فرائض میں کوتاہی ہو۔
لہذا ’’لوڈو‘ میں اگر خلافِ شرع امور کا ارتکاب ہو، حقوق اللہ (نماز و غیرہ) اور حقوق العباد میں کوتاہی ہو، فرائض و واجبات کا ترک لازم آتا ہو اور گناہ کا ارتکاب (مثلاً شرط لگا کر کھیلنا یا جوا لگانا ) ہو تو یہ ناجائز ہے اور اگر صرف وقت گزارنے کے لیے کھیلی جاتی ہو، تب بھی قیمتی اوقات کے ضیاع اور کسی دینی یا دنیاوی فائدہ نہ ہونے کی وجہ سے مکروہِ تحریمی ہے۔

حوالہ جات

*القرآن الكريم:(المائدة5 :90)*
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ.

*الشامية: (662،ط:دارالفكر)*
(و) كره تحريما (‌اللعب ‌بالنرد و) كذا (الشطرنج) بكسر أوله ويهمل ولا يفتح إلا نادرا،وأباحه الشافعي وأبو يوسف في رواية، ونظمها شارح الوهبانية فقال: ولا باس بالشطرنج وهي رواية عن الحبر قاضي الشرق والغرب تؤثروهذا إذا لم يقامر ولم يداوم ولم يخل بواجب، وإلا فحرام بالاجماع.(و) كره (كل لهو) لقوله عليه الصلاة والسلام: كل لهو المسلم حرام إلا ثلاثة: ملاعبته أهله، وتأديبه لفرسه، ومناضلته بقوسه.

*بدائع الصنائع: (5/ 127،ط:دار الكتب العلمية)*
ويكره ‌اللعب ‌بالنرد والشطرنج والأربعة عشر وهي لعب تستعمله اليهود لأنه قمار أو لعب وكل ذلك حرام (أما) القمار فلقوله عز وجل {يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس} [المائدة: 90] وهو القمار كذا روى ابن عباس وابن سيدنا عمر رضي الله عنهم وروي عن مجاهد وسعيد بن جبير والشعبي وغيرهم رضي الله عنهم أنهم قالوا الميسر القمار كله حتى الجوز الذي يلعب به الصبيان وعن سيدنا علي رضي الله عنه أنه قال الشطرنج ميسر الأعاجم وعن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال «ما ألهاكم عن ذكر الله فهو ميسر» (وأما) اللعب فلقوله عليه الصلاة والسلام «كل لعب حرام إلا ملاعبة الرجل امرأته وقوسه وفرسه» وقوله عليه الصلاة والسلام «ما أنا من دد ولا دد مني» وحكي عن الشافعي رحمه الله أنه رخص في اللعب بالشطرنج وقال لأن فيه تشحيذ الخاطر وتذكية الفهم والعلم بتدابير الحرب ومكايده فكان من باب الأدب فأشبه الرماية والفروسية وبهذا لا يخرج عن كونه قمارا ولعبا وكل ذلك حرام لما ذكرنا وكره أبو يوسف التسليم على اللاعبين بالشطرنج تحقيرا لهم لزجرهم عن ذلك ولم يكرهه أبو حنيفة رضي الله عنه لأن ذلك يشغلهم عما هم فيه فكان التسليم بعض ما يمنعهم عن ذلك فلا يكره.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 1206کی تصدیق کریں