جوا قمار

تاش وغیرہ کھیلنے کا حکم

فتوی نمبر :
1056
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / جوا قمار

تاش وغیرہ کھیلنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
مسئلہ یہ ہے کہ کچھ لوگ جو باہر ملک میں یا پاکستان میں مزدوری کرتے ہیں اور وہ ٹائم پاس کے لیے تاش وغیرہ کھیلتے ہیں تو اس کے کھیلنے کا کیا حکم ہے؟
رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے ان کھیلوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جو جسمانی یا ذہنی فائدہ دیتے ہیں، جیسے تیراکی، تیر اندازی اور گھڑ سواری ،جبکہ ایسے کھیل ممنوع ہیں جس میں وقت کا ضیاع ہو، گناہ پر مشتمل ہوں یا فساق و فجار کی مشغولیات میں شمار ہوتے ہوں، مثلاً شطرنج وغیرہ۔
کسی کھیل کے جائز ہونے کی شرائط یہ ہیں:
1) کھیل بذاتِ خود جائز ہو۔
2) اس میں کوئی دینی یا دنیاوی منفعت ہو۔
3) غیر شرعی امور شامل نہ ہوں۔
4) اس میں اتنا انہماک نہ ہو کہ فرائض میں کوتاہی ہو۔
لہٰذا تاش وغیرہ شرط لگا کر کھیلنا جوا ہے اور صریح حرام ہے اور شرط کے بغیر بھی اگر فرائض میں غفلت کا باعث ہو تو ناجائز ہے اور محض وقت گزاری کی خاطر کھیلنا بھی بے مقصد اور لہو و لعب ہے، اس لیے ان کھیلوں سے اجتناب ضروری ہے۔
فارغ اوقات میں اپنے آپ کو دینی امور ، تلاوت قرآن کریم اور ذکر واذکار میں مشغول رکھنا چاہیے ۔

حوالہ جات

*القران الکریم:(لقمان:6:31)*
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ .

*روح المعانی:(66/11،ط: دارالکتب العلمیة)*
ولهو الحديث على ما روي عن الحسن: كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها.

*سنن ابي داؤود:(167/4،رقم الحدیث:2513،ط: دارالرسالة العالمیة )*
عن عقبة بن عامر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الله عز وجل يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة، صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، ومنبله. وارموا، واركبوا، وأن ترموا أحب إلي من أن تركبوا. ليس من اللهو إلا ثلاث: تأديب الرجل فرسه، وملاعبته أهله، ورميه بقوسه ونبله، ومن ترك الرمي بعد ما علمه رغبة عنه، فإنها نعمة تركها، « أو قال:» كفرها.

*تکملۃ فتح الملہم:(435/4،ط: دارالعلوم کراتشی)*
فالضابط في هذا ... أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش ولا المعاد حرام أو مكروه تحريماً، ... وما كان فيه غرض ومصلحة دينية أو دنيوية فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة ... كان حراماً أو مكروهاً تحريماً، ... وأما مالم يرد فيه النهي عن الشارع وفيه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي على نوعين: الأول: ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه، ومفاسده أغلب على منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده وعن الصلاة والمساجد، التحق ذلك بالمنهي عنه؛ لاشتراك العلة، فكان حراماً أو مكروهاً. والثاني: ماليس كذلك، فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التهلي والتلاعب فهو مكروه، وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، بل قد ير تقي إلى درجة الاستحباب أو أعظم منه ... وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها مالم يشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه و دنياه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
56
فتوی نمبر 1056کی تصدیق کریں