مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ فلسطین بھیجنا زیادہ افضل ہے یا اپنے شہر کے لوگوں کو دینا افضل ہے۔

فتوی نمبر :
1199
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ فلسطین بھیجنا زیادہ افضل ہے یا اپنے شہر کے لوگوں کو دینا افضل ہے۔

مفتی صاحب !
فطرہ و زکوة فلسطین بھجوانا زیادہ افضل ہے یا اپنے اطراف کے غریبوں کو دینا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فطرانہ اور زکوٰۃ اپنے اطراف کے فقرا اور غرباکو دینا زیادہ افضل ہے بنسبت دوسرے شہر کے غربا کو دینے سے ، بلکہ اپنے اطراف کے غربا کو چھوڑ کر دوسرے شہر کے غربا کو زکوٰۃ دینے کو فقہائےکرام نے مکروہ قرار دیا ہے ،البتہ اگر دوسرے شہر کے لوگ زیادہ محتاج ہو تو اس صورت میں دوسرے شہر کے غربا کو زکوٰۃ دینا زیادہ افضل ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں اس وقت فلسطین کے مسلمانوں کی حالت کو دیکھ کر ان کو زکوٰۃ دینا زیادہ افضل معلوم ہوتا ہے ۔

حوالہ جات

*الهندية:(190/1،ط:دارالفكر)*
ويكره نقل الزكاة من بلد إلى بلد إلا أن ينقلها الإنسان إلى قرابته أو إلى قوم هم أحوج إليها من أهل بلده، ولو نقل إلى غيرهم أجزأه، وإن كان مكروها،

*الموسوعة الفقهية:(331/23،ط:دارالسلاسل)*
إذا فاضت الزكاة في بلد عن حاجة أهلها جاز نقلها اتفاقا، بل يجب، وأما مع الحاجة فيرى الحنفية أنه يكره تنزيها نقل الزكاة من بلد إلى بلد، وإنما تفرق صدقة كل أهل بلد فيهم، لقول النبي صلى الله عليه وسلم: تؤخذ من أغنيائهم فترد على فقرائهم . ولأن فيه رعاية حق الجوار، والمعتبر بلد المال، لا بلد المزكي.واستثنى الحنفية أن ينقلها المزكي إلى قرابته، لما في إيصال الزكاة إليهم من صلة الرحم. قالوا: ويقدم الأقرب فالأقرب.واستثنوا أيضا أن ينقلها إلى قوم هم أحوج إليها من أهل بلده، وكذا لأصلح، أو أورع، أو أنفع للمسلمين، أو من دار الحرب إلى دار الإسلام، أو إلى طالب علم .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1199کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --