مفتی صاحب !
ٍ مدرسے میں آنے والے بکروں کو فروخت کرکے اس کی قیمت دوسرے مصرف میں خرچ کرنا کیسا ہے
واضح رہے کہ مدرسے میں آئے ہوئے صدقہ کے بکرے، مہتمم کے لیے امانت کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ صدقہ کرنے والے کی طرف سے وکیل ہوتا ہے۔ لہٰذا مہتمم کے لیے ضروری ہے کہ ان بکروں کو اسی مصرف میں استعمال کرے جس کے لیے صدقہ کیا گیا ہے۔ اس بنا پر ان بکروں کو طلبہ کو کھلانا لازم ہے اور ان کا بیچنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر صدقہ کرنے والا خود اجازت دے کہ انہیں بیچ کر دوسرے مصرف میں استعمال کیا جائے، تو ایسی صورت میں انہیں بیچ کر دوسرے مصرف میں استعمال کرنا جائز ہوگا۔
*الشامية: (2/ 269،ط:دارالفكر)*
وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره.
*الموسوعة الفقهية: (45/ 87،ط:دارالسلاسل)*
الوكيل أثناء قيامه بتنفيذ الوكالة مقيد بما يقضي به الشرع من عدم الإضرار بالموكل لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ضرر ولا ضرار (2) ، ومقيد بما يأمره به موكله، كما أنه مقيد بما يقضي به العرف إذا كانت الوكالة مطلقة عن القيود، فإذا خالف كان متعديا ووجب الضمان.