السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب۔ مجھے حیض اور درمیان میں آنے والے خون کے بارے میں مسئلہ پوچھنا ہے۔ میری کیفیت تاریخ وار یہ ہے: 25 اگست، فجر کے وقت: حیض کا خون شروع ہوا۔ 25 اگست سے 29 اگست تک: مسلسل تقریباً 5 دن خون رہا۔ 30 اگست (چھٹا دن): خون بند ہونے پر میں نے غسل کیا اور نماز شروع کر دی۔ اس کے بعد میں نماز پڑھتی رہی۔ درمیان میں ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا میں نے کچھ دن استعمال کرنے کے بعد چھوڑ دی، جس کے بعد دو دن دوبارہ خون/بلیڈنگ ہوئی۔ ان دو دنوں میں میں نے نماز نہیں چھوڑی، کیونکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ۔اس کے بعد خون بند ہوگیا اور میں نماز پڑھتی رہی۔ 22 ستمبر، آج فجر کے وقت: دوبارہ خون/بلیڈنگ شروع ہوئی ہے۔ براہِ کرم میری اس پوری کیفیت کو دیکھ کر بتا دیں کہ 25 اگست والا خون، درمیان کے دو دن کا خون، اور آج 22 ستمبر سے شروع ہونے والا خون شرعاً حیض ہے یا استحاضہ؟ خاص طور پر یہ بھی بتا دیں کہ مجھے آج سے نماز پڑھنی ہے یا نماز روکنی ہے، اور آئندہ حیض کی تاریخ کا حساب کس طرح رکھا جائے؟جزاکم اللہ خیراً۔
واضح رہے کہ حیض کی کم از کم مدت تین دن اور تین راتیں اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن اور دس راتیں ہے، جبکہ دو حیضوں کے درمیان کم از کم پندرہ دن پاکی کا ہونا ضروری ہے، لہٰذا آپ کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق 25 اگست سے 29 اگست تک آنے والا خون چونکہ تقریباً پانچ دن جاری رہا، اس لیے یہ حیض شمار ہوگا۔ درمیان میں جو دو دن دوبارہ خون آیا، اگر وہ 25 اگست سے 4 ستمبر کے درمیان آیا تھا تو وہ بھی اسی حیض کا حصہ شمار ہوگا۔ البتہ اگر یہ دو دن کا خون 4 ستمبر کے بعد آیا تھا تو وہ استحاضہ شمار ہوگا اور اس صورت میں نماز پڑھنا لازم ہوگا۔ 22 ستمبر کو جو خون شروع ہوا ہے، چونکہ اس سے پہلے پندرہ دن سے زیادہ پاکی کے ایام گزر چکے ہیں، اس لیے اگر یہ خون کم از کم تین دن جاری رہا اور دس دن سے زیادہ نہ ہوا تو یہ حیض شمار ہوگا اور اس دوران نماز نہیں پڑھی جائے گی، لیکن اگر یہ خون تین دن سے کم جاری رہا تو استحاضہ شمار ہوگا اور نماز پڑھنا لازم ہوگا۔ آئندہ کے لیے بہتر ہے کہ خون شروع ہونے اور بند ہونے کی تاریخ اور وقت باقاعدگی سے لکھ لیا کریں تاکہ حیض کی عادت اور استحاضہ کا حساب درست طور پر معلوم کیا جا سکے۔
الهداية : (1/ 32،ط:دارالفکر) "أقل الحيض ثلاثة ايام ولياليها وما نقص من ذلك فهو استحاضة" قوله عليه الصلاة والسلام "أقل الحيض للجارية البكر والثيب ثلاثة أيام ولياليها وأكثره عشرة أيام...ثم الزائد والناقص استحاضة لأن تقدير الشرع يمنع إلحاق غيره به "وما تراه المرأة من الحمرة والصفرة والكدرة في أيام الحيض حيض" حتى ترى البياض خالصا...وأما الخضرة فالصحيح أن المرأة إذا كانت من ذوات الأقراء تكون حيضا ويحمل على فساد الغداء وإن كانت كبيرة لا ترى غير الخضرة تحمل على فساد المنبت فلا تكون حيضا "والحيض يسقط عن الحائض الصلاة ويحرم عليها الصوم وتقضي الصوم ولا تقضي الصلاة"...والطهر إذا تخلل بين الدمين في مدة الحيض فهو كالدم المتوالي...وأقل الطهر خمسة عشر يوما" هكذا نقل عن إبراهيم النخعي وأنه لا يعرف إلا توقيفا "ولا غاية لأكثره" لأنه يمتد إلى سنة وسنتين فلا يتقدر بتقدير إلا إذا استمر بها الدم فاحتيج إلى نصب العادة ويعرف ذلك في كتاب الحيض "ودم الاستحاضة كالرعاف الدائم لا يمنع الصوم ولا الصلاة ولا الوطء" لقوله عليه الصلاة والسلام "توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير" وإذا عرف حكم الصلاة ثبت حكم الصوم والوطء بنتيجة الإجماع "ولو زاد الدم على عشرة أيام ولها عادة معروفة دونها ردت إلى أيام عادتها والذي زاد استحاضة" لقوله عليه الصلاة والسلام "المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها" ولأن الزائد على العادة يجانس ما زاد على العشرة فيلحق به وإن ابتدأت مع البلوغ مستحاضة فحيضها عشرة أيام من كل شهر والباقي استحاضة لأنا عرفناه حيضا فلا يخرج عنه بالشك...والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل" الدرالمختار :(1/ 285،ط:دارالفکر) (وأقل الطهر) بين الحيضتين أو النفاس والحيض (خمسة عشر يوما) ولياليها إجماعا (ولا حد لأكثره) ، إن استغرق العمر (إلا عند) الاحتياج إلى (نصب عادة لها إذا استمر) بها (الدم) فيحد لأجل العدة بشهرين به يفتى،