مفتی صاحب! پوچھنا یہ تھا کہ جس شخص کا عقیدہ یہ ہو کہ غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ یا دیگر اللہ کے ولی جو وفات پا چکے ہیں، ان کے مزار پر جا کر دعا مانگی جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش کرتے ہیں، یا کوئی شخص "یا غوث المدد" کہتا ہو تو کیا یہ کفریہ الفاظ ہیں؟ اور اگر یہ کفریہ الفاظ ہیں تو میں نے سنا ہے کہ کفریہ الفاظ کہنے سے نکاح بھی ختم ہو جاتا ہے تو کیا ایسے شخص کا نکاح بھی ختم ہوگیا؟
کسی ولی یا اللہ والے کی قبر کی زیارت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہاں منکرات و بدعات نہ ہوں، اگر اللہ تعالیٰ ہی کو شفا دینے والا اور حاجت روا سمجھتے ہوئے کسی بزرگ کی برکت سے دعا کی جائے، مثلاً: "اے اللہ! اس ولی اور بزرگ کی برکت سے میری بیماری دور فرما،میرا فلاں کام کردے " تو یہ جائز ہے، البتہ صاحب قبر کو مشکل کشا سمجھ کر اس سے حاجات مانگنا شرک ہے،اس سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے،البتہ صاحبِ مزار سے یہ کہنا کہ "اے فلاں! میرے لیے دعا کریں کہ اللہ میرا کام پورا فرما دے" تو اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے، جو علماء سماعِ موتیٰ (مردوں کے سننے ) کے قائل ہیں، ان کے نزدیک ایسا کہنا جائز ہے۔ البتہ"یا غوث المدد" کہنا جائز نہیں، کیونکہ اگر اس سے مراد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو پکار کر ان سے مدد طلب کرنا ہو اور یہ عقیدہ ہو کہ وہ مستقل طور پر ہر قسم کے اختیارات رکھتے ہیں اور جس کی چاہیں، جس طرح چاہیں مدد کرسکتے ہیں تو یہ کفریہ عقیدہ ہے، جس کے ساتھ ایمان باقی نہیں رہتا۔اور نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور اگر ایسا عقیدہ نہ بھی ہو، تب بھی "یا غوث المدد" جیسے الفاظ موہمِ شرک ہیں، اس لیے ان سے اجتناب کرنا چاہیے اور ہر قسم کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرنی چاہیے۔
القرآن الکریم:(الآية:3،39) اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ-وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَۘ-مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰىؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ۬ؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ. فتاوی رشیدیہ (کتاب العلم، ص: 152، ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام) ایک سوال کے جواب میں ہے : ’’قبر کے پا س جا کر کہے کہ اے فلاں تم میرے واسطے دعا کرو کہ حق تعالی میرا کام کردیوے اس میں اختلاف علماء کا ہے ،مجوز سماع موتی اس کے جواز کے مقر ہیں اور مانعین سماع منع کرتے ہیں سو اس کا فیصلہ اب کرنا محال ہے ، مگر انبیاء علیہم السلام کے سماع میں کسی کو خلاف نہیں اسی وجہ سے ان کو مستثنی کیا ہے اور دلیل جواز یہ ہے کہ فقہاء نے بعد سلام کے وقت زیارت قبر مبارک شفاعت مغفرت کا عرض کرنا لکھا ہے پس جواز کے واسطےیہ کافی ہے ۔‘‘ فتاویٰ محمودیہ:362/1،ط:ادارۃ الفاروق) "سوال: کیا اولیائے کرام کو اٹھتے بیٹھتے پکارنا جیسا کہ:"یا غوث الاعظم المدد"یا بڑا پیر جائز ہے یا کھلا ہوا شرک ہے؟۔ جواب:ان اعتقادات اور اعمال سے ایمان سلامت نہیں رہتا اس عقیدہ کو فقہاء نےکفر لکھا ہے:(ويكفر بقوله: أرواح المشائخ حاضرة تعلم) [مجمع الأنهر]۔"