مفتی صاحب ! کیا پہلے سے کسی کو دیا گیا قرض، صدقہ فطر میں شمار کیا جا سکتا ہے؟
واضح رہے کہ زکوٰۃ اور صدقہ فطر کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ مالِ زکوٰۃ کو دیگر اموال سے الگ کرتے وقت یا کسی مستحق کو دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت کی جائے، ورنہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، نیز زکوٰۃ کی صحت کے لیے مستحق کو مال کا مالک بنانا (تملیک) بھی لازم ہے، لہذا کسی مقروض کو دیا ہوا سابقہ قرض محض معاف کر دینے سے زکوۃ اور صدقہ فطر ادا نہیں ہوتا۔ پوچھی گئی صورت میں پہلے سے کسی کو دیا گیا قرض صدقہ فطر میں شمار کرنا جائز نہیں، تاہم اس کی صورت یہ ہے کہ پہلے انہیں الگ سے پیسے صدقہ فطر کی مد میں دیے جائیں اور مالک بنانے کے بعد ان سے اپنا قرض وصول کر لیا جائے ۔
الدرالمختار:(368/2،ط: دارالفكر) (وصدقة الفطر كالزكاة في المصارف) وفي كل حال (إلا في) جواز (الدفع إلى الذمي) وعدم سقوطها بهلاك المال وقد مر. أيضاً : (2/ 270، ط: دارالفكر) واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه. فتاوی رحیمیہ :(7/175، ط: دارالاشاعت کراچی ) سوال نمبر 190 :ایک آدمی پر میرے پانچ روپے قرض ہے میں بمد زکوۃ اس کو دے دوں ،تو اس سے زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں ؟ الجواب :صورت مسئولہ میں زکوۃ ادا نہیں ہوگی ،اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنے طرف سے پانچ روپے اسے دے کر اس کو مالک بنا دیں، پھر وہ بمد قرض ادا کر دے ،تو اس صورت میں زکوۃ بھی ادا ہو جائے گا اور قرض بھی وصول ہو جائے گا ۔