مفتی صاحب ! میرا سوال یہ ہے کہ زید نے بکر کو 50 ہزار روپے قرضہ دیا ،اب زید بکر کو زکوۃ کے مد میں اس نیت سے 50 ہزار روپے دینا چاہتا ہے ،کہ وہ ان پیسوں سے میرا قرض واپس کر دے، کیونکہ زید کی حالت اس وقت قرضہ واپس کرنے کی نہیں ہے ،وہ شدید مالی بحران کا شکار ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح سے زکوۃ ادا ہو جائے گا؟ اور بکر اگر ان پیسوں سے اپنا قرض ادا کر دے تو اس کا قرضہ اتارنا جائز ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ مالِ زکوٰۃ کو دیگر اموال سے الگ کرتے وقت یا کسی مستحق کو دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت کی جائے، ورنہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ نیز زکوٰۃ کی صحت کے لیے مستحق کو مال کا مالک بنانا (تملیک) بھی لازم ہے،لہذا کسی مقروض کو دیا ہوا سابقہ قرض محض معاف کر دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، کیونکہ اس صورت میں نہ تو تملیک پائی جاتی ہے اور نہ ہی ادائیگیِ زکوٰۃ کے لیے مطلوبہ نیت کا درست تحقق ہوتا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں اگر بکرواقعی مستحقِ زکوۃ ہے،تو زیدکا اس کو زکوٰۃ کی رقم مالک بنا کر دینا اور پھر اس سے اپنے قرض کی مد میں وہ رقم وصول کر لینا شرعا جائز ہے۔
الدرالمختار : (2/ 270، ط: دارالفكر) واعلم أن أداء الدين عن الدين والعين عن العين، وعن الدين يجوز وأداء الدين عن العين، وعن دين سيقبض لا يجوز. وحيلة الجواز أن يعطي مديونه الفقير زكاته ثم يأخذها عن دينه. فتاوی رحیمیہ :(7/175، ط: دارالاشاعت کراچی ) سوال نمبر 190 :ایک آدمی پر میرے پانچ روپے قرض ہے میں بمد زکوۃ اس کو دے دوں ،تو اس سے زکوۃ ادا ہوگی یا نہیں ؟ الجواب :صورت مسئولہ میں زکوۃ ادا نہیں ہوگی ،اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنے طرف سے پانچ روپے اسے دے کر اس کو مالک بنا دیں، پھر وہ بمد قرض ادا کر دے ،تو اس صورت میں زکوۃ بھی ادا ہو جائے گا اور قرض بھی وصول ہو جائے گا ۔ بتاؤ محمودیہ :(9/476، ط: ادارۃ الفاروق کراچی ) سوال نمبر 4579 :زید پر عمر کا قرضہ ہے زید فی الحال زکوۃ کا مستحق ہے، اگر عمر زید سے کہہ دے کہ میں نے رقم تجھ کو دے دی ، تو اس صورت میں عمر کا زکوۃ کی نیت کر سکتا ہے کہ نہیں؟ الجواب :جو رقم بطور قرض واجب الادا ہو، اس سے مقروض کو بری کر دینے سے ادائی زکوۃ کے لیے کافی نہیں ہے ،البتہ اگر مقروض کو زکوۃ کی رقم دے دی جائے، پھر اس سے وہ اپنا قرض وصول کر دی ،جائے تو یہ درست ہے۔