مفتی صاحب ! میاں بیوی میں طلاق ہوگئی ہے،ان کی ایک بچی ہے جو کہ والدہ کے پاس ہے،والد پر کتنا خرچہ دینا لازم ہے ؟
میاں بیوی کی علیحدگی کی صورت میں نو سال کی عمر تک بیٹی کی پرورش کا حق والدہ کو حاصل ہوتا ہے، اس کے بعد والد اسے اپنی تحویل میں لے سکتا ہے اور اسی کو اس کا زیادہ حق حاصل ہے، تاہم اگر والد اپنی رضامندی سے بیٹی کو والدہ کے پاس رہنے دے تو بھی جائز ہے، بشرطیکہ اس کی دینی و اخلاقی تربیت متاثر نہ ہو۔ ہر صورت میں بیٹی کا نان و نفقہ، تعلیم و تربیت، علاج معالجہ اور دیگر ضروری اخراجات والد کی مالی استطاعت، حیثیت اور بچوں کی ضرورت کے مطابق اس کی شادی تک والد کے ذمہ لازم ہیں، ان اخراجات کی کوئی ایک مقررہ مقدار نہیں، بلکہ ان کا تعین عرف، حالات اور والد کی وسعت کے مطابق کیا جائے گا، نیز والدین پر لازم ہے کہ بچیوں کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور دینی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کریں۔
*الهندية:(547/1،ط:دار الفكر)* وإذا أراد الفرض، والزوج موسر يأكل الخبز الحواري واللحم المشوي، والمرأة معسرة، أو على العكس اختلفوا فيه والصحيح: أنه يعتبر حالهما كذلك في الفتاوى الغياثية وعليه الفتوى حتى كان لها نفقة اليسار إن كانا موسرين، ونفقة العسار إن كانا معسرين، وإن كانت موسرة، وهو معسر لها فوق ما يفرض لو كانت معسرة، فيقال له: أطعمها خبز البر وباجة أو باجتين، وإن كان الزوج موسرا مفرط اليسار نحو أن يأكل الحلواء، واللحم المشوي والباجات وهي فقيرة كانت تأكل في بيتها خبز الشعير لا يجب عليه أن يطعمها ما يأكل بنفسه، ولا ما كانت تأكل في بيتها، ولكن يطعمها خبز البر وباجة، أو باجتين وفي ظاهر الرواية يعتبر حال الزوج في اليسار والإعسار كذا في الكافي. *الشامية:(547/3،ط: دارالفكر)* قال في البحر: واتفقوا على وجوب نفقة الموسرين إذا كانا موسرين، وعلى نفقة المعسرين إذا كانا معسرين، ويخاطب بقدر وسعه والباقي دين إلى الميسرة، ولو موسرا وهي فقيرة لا يلزمه أن يطعمها مما يأكل بل يندب. *الدرالمختار:(612/3،ط: دارالفكر)* (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، فإن نفقة المملوك على مالكه والغني في ماله الحاضر؛ فلو غائبا فعلى الأب ثم يرجع إن أشهد لا إن نوى إلا ديانة؛ فلو كانا فقيرين فالأب يكتسب أو يتكفف وينفق عليهم، ولو لم يتيسر أنفق عليهم القريب.