مفتی صاحب ! کیا کسی ادارے یا فاؤنڈیشن کو دیے گئے زکوٰۃ فنڈ میں سے اسکول کے طلبہ کی فیس ادا کرنا جائز ہے؟
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیے زکوۃ کے مال کا کسی مستحق زکوۃ شخص کو مالک بنانا شرط ہے۔ اگر طلبہ نابالغ ہوں اور ان کے والدین مستحقِ زکوٰۃ ہوں تو ایسے طلبہ کی فیس زکوٰۃ فنڈ سے ادا کی جا سکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم پہلے مستحق والد کو بطورِ مالک و قابض دی جائے، خواہ زکوٰۃ کا نام ظاہر نہ کیا جائے، پھر وہی رقم وہ والد اسکول کی فیس کی مد میں ادا کرے، اور اگر طلبہ بالغ ہوں تو ضروری ہے کہ وہ خود مستحقِ زکوٰۃ ہوں، تب ہی ان کی فیس زکوٰۃ کی رقم سے ادا کی جا سکتی ہے۔ اگر مستحق والد اسکول انتظامیہ کو وکیل بنادے کہ وہ اس کی طرف سے زکوٰۃ وصول کر کے اس کے بچوں کی فیس میں خرچ کرے تو اس صورت میں بھی زکوٰۃ کی ادائیگی شرعاً درست ہوگی۔
*تبيين الحقائق:(251/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)* وقوله هي تمليك المال أي الزكاة تمليك المال وترد عليه الكفارة إذا ملكت؛ لأن التمليك بالوصف المذكور موجود فيها، ولو قال تمليك المال على وجه لا بد له منه لانفصل عنها؛ لأن الزكاة يجب فيها تمليك المال؛ لأن الإيتاء في قوله تعالى ﴿وآتوا الزكاة﴾ [البقرة: ٤٣] يقتضي التمليك، ولا تتأدى بالإباحة حتى لو كفل يتيما فأنفق عليه ناويا للزكاة لا يجزيه بخلاف الكفارة، ولو كساه تجزيه لوجود التمليك. *الدرالمختار مع رد المحتار:(139/1،ط دار الفکر)* دفع الزكاة إلى صبيان أقاربه برسم عيد أو إلى مبشر أو مهدي الباكورة جاز. قوله: إلى صبيان أقاربه) أي العقلاء وإلا فلايصح إلا بالدفع إلى ولي الصغير. *البحر الرائق:(265/2 ،ط: دارالکتاب الاسلامي)* وإنما منع من الدفع لطفل الغني لأنہ یعدغنیًا بغناء أبیہ وہو یفید أن الدفع لولد الغنیۃ جائز إذ لا یعد غنیا بغناء أمہ ولو لم یکن لہ أب.