معاملات / احکام طلاق / خلع

خلع کی صورت میں حق مہر کا حکم

فتوی نمبر : 2501 0000-00-00 57 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم عرض یہ ہے کہ میں منیب الرحمان ولد عقیل الرحمان ہوں ۔ میرا نکاح عروج بنت عبد الرازاق سے ہوا تھا ۔نکاح کے بعد کچھ عرصہ ہم ساتھ رہے، لیکن بعد ازاں ہمارے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ، لڑ کی کی جانب سے نافرمانی بد زبانی اور گھر کے معاملات میں عدم تعاون جیسی شکایات سامنے آئیں، جس کی وجہ سے ازدواجی زندگی متاثر ہوئی۔ مزید یہ کہ لڑکی کی طرف سے یہ موقف پیش کیا گیا کہ میں عروج بنت عبد الرازق اس بات کا اعتراف کرتی ہوں کہ میری میرے شوہر منیب الرحمان سے ذہنی ہم آہنگی نہیں ہو سکی ۔ دونوں جانب سے کافی کوششوں کے بعد بھی کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو پائی اور کافی سوچ و بچار کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ اب مزید نباہ نہیں ہو سکتا، اس لیے میں اپنے شوہر منیب الرحمان ولد عقیل الرحمان سے اپنے حق مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کرتی ہوں ۔ نیز جو سامان اُن کی کی طرف سے ملا ہے ، وہ واپس کر دیں گے اور جو سامان ہمارا ہوگا ، وہ ہم لے لیں گے ۔ اب وہ میرے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں، علیحدگی اختیار کر چکی ہے اور حق مہر اور خلع کے حوالے سے اپنا مطالبہ رکھتی ہے، جبکہ وہ اپنی طرف سے معاملات کو ختم سمجھتی ہے اور مزید تعلق برقرار رکھنے کی خواہش نہیں رکھتی اور 3 ، 4 ماہ ہو چکے ہیں اپنی ماں کے گھر رہائش پزیر ہے۔ اب اس صورتحال میں گزارش ہے کہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں : (۱) کیا ایسی صورت میں مجھ پر حق مہر ادا کرنا واجب ہے یا نہیں؟ (۲) اگر لڑکی خود علیحدگی اختیار کرے یا نا فرمانی کی بنیاد پر رشتہ ختم ہو تو حق مہر کا کیا حکم ہو گا ؟ (۳)کیا اس معاملے میں حق مہر مکمل ادا کرنا ہو گا یا کچھ صورتوں میں کم بھی ہو سکتا ہے؟ (۴) لڑکی کے اس تحریری موقف کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح ایک مقدس ومعزز رشتہ ہے، اس لیے شوہر اور بیوی دونوں پر لازم ہے کہ بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق دینے ، خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنے سے گریز کریں، گھریلو زندگی میں پیش آنے والی ناخوشگوار باتوں پر صبر، برداشت اور حکمت سے کام لینا چاہیے اور دونوں میاں بیوی اپنے اپنے حقوق کو ملحوظ رکھتے ہوئے گھر کو آباد رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر اختلافات بڑھ جائیں اور معاملہ خود حل نہ ہو سکے تو گھر کے سمجھ دار اور معزز بزرگوں کی مدد سے اصلاح کی کوشش کی جائے ،شریعت کی ہدایت یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، رشتہ بچانے کی کوشش کی جائے، البتہ اگر معاملہ اس حد تک پہنچ جائے کہ نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور یہ اندیشہ ہو کہ زوجین اللہ کی مقرر کردہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو جدائی کا راستہ اختیار کرنا جائز ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ بیوی کے ساتھ خلوتِ صحیحہ (یعنی ایسا موقع جس میں ازدواجی تعلق قائم ہو سکتا ہو) کر چکے ہیں تو آپ پر پورا حق مہر ادا کرنا لازم ہے، البتہ اگر بعد میں رشتے میں خرابی اور زیادتی بیوی کی طرف سے ہو تو شوہر طلاق یا خلع کے بدلے صرف مہر کے بقدر رقم لینے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ مہر سے زیادہ لینا شرعاً ناپسندیدہ ہے۔ اور اگر زیادتی شوہر کی طرف سے ہو تو ایسی صورت میں طلاق کے بدلے کسی بھی قسم کا مالی مطالبہ کرنا جائز نہیں۔ نیز واضح رہے کہ بیوی کا تحریری مطالبہ خلع کے لیے اس کی رضامندی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن خلع شرعاً اس وقت مکمل ہوگا جب شوہر اس کو قبول کرے یا عدالتِ شرعیہ/دارالقضاء اس کا فیصلہ کرے۔

*العناية شرح الهداية:(218/4،ط:دار الفكر)* وإن طلقها على مال) مثل أن قال أنت طالق بألف درهم أو على ألف درهم (فقبلت وقع الطلاق ولزم المال) لأن هذا تصرف معاوضة يعتمد أهلية المتعاوضين وصلاحية المحل والكل حاصل، أما أهلية الزوج فلأنه يستبد بالطلاق تنجيزا وتعليقا لا محالة، وقد علقه بقبولها بدلالة مقام المعاوضة فإن الحكم فيه متعلق بالقبول، وأما أهلية المرأة فلأنها تملك التزام المال لولايتها على نفسها، وأما صلاحية المحل فلأن ملك النكاح مما يجوز الاعتياض عنه، وإن لم يكن مالا كالقصاص فإنه ليس بمال، وجاز أخذ العوض عنه والجامع وجود التزام من أهله، كذا في بعض الشروح (وإذا وقع الطلاق كان بائنا لما بينا) أنها لا تسلم المال إلا لتسلم لها نفسها (ولأنه معاوضة المال بالنفس وقد ملك الزوج أحد البدلين فتملك الزوجة البدل الآخر وهو النفس تحقيقا للمساواة). *مجمع الأنهر:(759/1،ط:دار إحياء التراث العربي)* (وكره) [له أي للزوج أخذ شيء من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] إن نشز الزوج وكره أخذ أكثر مما أعطاها من المهر إن نشزت] تحريما وقيل تنزيها (له) أي للزوج (أخذ شيء) من المهر وإن قل لقوله تعالى ﴿فلا تأخذوا منه شيئا﴾ [النساء: ٢٠] (إن نشز) الزوج أي كرهها وباشر أنواع الأذى. (و) كره (أخذ أكثر مما أعطاها) من المهر (إن نشزت) المرأة فلا يكره أخذ ما قبضته منه هذا على رواية الأصل وعلى رواية الجامع لم يكره أن يأخذ أكثر مما أعطاها لكن اللائق بحال المسلم أن يأخذ ناقصا من المهر حتى لا يخلو الوطء عن المال. *الدر المختار:(445/3،ط: دارالفكر)* (وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
خلع نامہ میں پر دستخط کرنے سے خلع کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
رخصتی سے پہلے عدالتی خلع کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عدالتی خلع ہونے کی صورت میں کسی اور شخص سے نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
خلع کی صورت میں حق مہر کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
خلع سے واقع ہونے والا طلاق
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عدالتی خلع اور فسخ نکاح
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ایک طرفہ خلع کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شوہر کے مرضی کے بغیر عدالتی خلع کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عدالت کی طرف سے ملنے والی خلع اور فسخ نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عدالتی خلع ہونے کی صورت میں کسی اور شخص سے نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
خلع میں حق مہرکا مطالبہ کرنا