مفتی صاحب ! چند سال پہلے کی بات ہے میں نے اپنی تایا زاد بہن کے سامنے قسم کھا ئی تھی کہ میں آپ کے ساتھ بھائی بن کر رہوں گا اور بھائیوں والا رویہ اختیار کروں گا ، اب میرے والد ین تایا زاد بہن کے ساتھ میری شادی کروانا چاہتے ہیں،توکیا شادی کرنے سے میرے ذمہ قسم کا کفارہ واجب ہوگا ؟ اور کیا میں گناہ گار تو نہیں ہوں گا ؟
واضح رہے کہ آپ نے بھائی بن کر رہنے کی قسم کھائی تھی اب جب آپ قسم کو توڑیں گے تو آپ پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا اور قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا ، یا تین دن مسلسل روزے رکھنے ہیں ۔
الدرالمختار : (3/ 708، ط:دارالفكر) (منعقدة وهي حلفه على) مستقبل (آت) يمكنه، فنحو: والله لا أموت ولا تطلع الشمس من الغموس (و) هذا القسم (فيه الكفارة) لآية - {واحفظوا أيمانكم} [المائدة: 89]- ولا يتصور حفظ إلا في مستقبل (فقط). الهندية: (2/ 52، ط: دارالفكر) ومنعقدة، وهو أن يحلف على أمر في المستقبل أن يفعله، أو لا يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عند الحنث كذا في الكافي. بدائع الصنائع : (3/ 5، ط: دارالكتب العلمية ) وأما اليمين المعقودة فهي اليمين على أمر في المستقبل نفيا أو إثباتا نحو قوله والله لا أفعل كذا وكذا وقوله والله لأفعلن كذا.