ایک سوال ہے، لوگ کہتے ہیں کہ جیسے اذان میں مؤذن چہرہ پھیرتا ہے تو اقامت میں بھی پھیرنا چاہیے، کیا اس کا کوئی ثبوت ہے یا نہیں؟ تفصیلی جواب چاہیے۔
اذان میں ’’حی علی الصلاۃ‘‘ اور ’’حی علی الفلاح‘‘ کے وقت دائیں اور بائیں جانب چہرہ پھیرنا احادیث سے ثابت ہے، البتہ اقامت میں اس کا ثبوت نہیں ملتا، اس لیے فقہاءِ کرام کی آراء مختلف ہیں۔ بعض فقہاء اذان اور اقامت میں مماثلت کی بنا پر اقامت میں بھی ان کلمات کے وقت چہرہ پھیرنے کو مستحب قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک اقامت کا مقصد مسجد میں موجود لوگوں کو نماز کے لیے متوجہ کرنا ہے، اس لیے اس میں چہرہ پھیرنے کی ضرورت نہیں۔ بعض فقہاء نے اس میں یہ تفصیل بیان کی ہے کہ اگر جماعت کی جگہ کشادہ ہو تو چہرہ پھیر لیا جائے، ورنہ نہیں، تاہم نہ پھیرنے سے اقامت میں کوئی خلل نہیں آتا اور اقامت درست ہو جاتی ہے۔
البحر الرائق:(272/1،ط:دار الكتاب الإسلامي) وأطلق في الالتفات ولم يقيده بالأذان وقدمنا عن الغنية أنه يحول في الإقامة أيضا وفي السراج الوهاج لا يحول فيها؛ لأنها لإعلام الحاضرين بخلاف الأذان فإنه إعلام للغائبين، وقيل يحول إذا كان الموضع متسعا. بذل المجهود:(326/3،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث) قلت: ومذهب الحنفية في المسألة ما قال في «الدر المختار»: ويلتفت فيه، وكذا فيها مطلقا، وقيل: إن المحل متسعا، يمينا ويسارا فقط، لئلا يستدبر القبلة بصلاة وفلاح، ويستدير في المنارة لو متسعة ويخرج رأسه منها. الشامية:(387/1،ط: دارالفكر) (ويلتفت فيه) وكذا فيها مطلقا، وقيل إن المحل متسعا (يمينا ويسارا) فقط؛ لئلا يستدبر القبلة (بصلاة وفلاح) ولو وحده أو لمولود؛ لأنه سنة الأذان مطلقا (ويستدير في المنارة) لو متسعة ويخرج رأسه منها (ويقول) ندبا.