کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی شخص سے چوری شدہ مال خریدنا کیسا ہے؟ اگر انجانے میں چوری شدہ مال خریدا گیا ہو، تو معلوم ہونے کے بعد کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ اگر مال کی چوری شدہ ہونے کا پکا یقین ہو، تو اس کو خریدنا جائز نہیں، البتہ اگر انجانے میں خرید لیا جائے اور بعد میں چوری شدہ ہونے کا پتہ چلے ،تو جس سے خریدا ہے ،اسے واپس کر کے رقم وصول کر لی جائے۔
القرأن الكريم :[المائدة:/5 2] ﵟوَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ﵞ الشامية: (5/ 42،ط: دارالفكر) لو ظهر غير حلال أي مسروقا أو مغصوبا يرجع عليه المشتري. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (7/ 85،ط: دارالكتب العلمية ) ولو باع السارق المسروق من إنسان، أو ملكه منه بوجه من الوجوه، فإن كان قائما فلصاحبه أن يأخذه؛ لأنه عين ملكه، وللمأخوذ منه أن يرجع على السارق بالثمن الذي دفعه.