مفتی صاحب! ٹی وی کا استعمال جائز بھی ہے اور ناجائز بھی ،جیسے ٹی وی پر دینی چینلز ،دینی پروگرام، حتی کہ مکہ مکرمہ کے مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ اس کے برکت بہت سی خرافات بھی دیکھی جا سکتی ہے ،اس کے جائز و ناجائز استعمال کا معاملہ کیا ہوگا؟ کیا اس کا مرمت کرنے والا بھی گنہگار ہے ؟اس کے مرمت سے حاصل کردہ آمدنی حلال ہے یا حرام؟
واضح رہے کہ ٹی وی کا استعمال جہاں بے حیائی اور فحش پروگراموں کے لیے ہوتا ہے، وہیں اسے دینی اور دیگر جائز پروگراموں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا بے حیائی اور فحش چیزیں دیکھنے کا گناہ دیکھنے والے کے ذمہ ہوگا، ٹی وی کی مرمت کرنے والے کے ذمہ نہیں۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں ٹی وی کی مرمت کے پیشے سے حاصل ہونے والی آمدنی فی نفسہٖ حلال ہے، تاہم چونکہ عام طور پر ٹی وی کا استعمال بے حیائی اور فحش مواد دیکھنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے، اس لیے گناہ میں تعاون کی وجہ سےاس پیشے سے اجتناب کرنا بہتر ہے۔
القرأن الكريم :[الأنعام:/6 164] ﵟوَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚﵞ الشامية :(6/ 392،ط: دارالفكر) ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه. الهندية: (4/ 450،ط: دارالفكر) وإن استأجره لينحت له طنبورا أو بربطا ففعل طاب له الأجر إلا أنه يأثم به. كذا في فتاوى قاضي خان.