اگر کوئی شخص تجارت کر رہا ہے ،تو وہ اپنے مال کو کتنے فیصد تک بڑھا کر بھیج سکتا ہے ؟جیسے کسی چیز کی قیمت 100 روپے ہے، تو وہ اس پر شریعت کے اعتبار سے کتنا نفع کما سکتا ہے؟
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے تجارت میں نفع حاصل کرنے کی کوئی خاص مقدار یا فیصد مقرر نہیں کی، بلکہ اصل یہ ہے کہ خرید و فروخت باہمی رضامندی سے ہو اور اس میں دھوکہ، فریب، خیانت اور دیگر ناجائز ذرائع اختیار نہ کیے جائیں،لہٰذا اگر کسی چیز کی قیمت سو روپے ہو تو اس پر کسی خاص فیصد کی پابندی نہیں، بلکہ جائز طریقے سے جتنا نفع باہمی رضامندی سے حاصل ہو، وہ شرعاً جائز ہے،البتہ ایسا غیر معمولی نفع لینا جس میں غبنِ فاحش پایا جائے،خصوصاً جب خریدار کو حقیقی قیمت سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
القرأن الكريم :[النساء:/4 29] ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚﵞ سنن أبي داود: (5/ 267 ،رقم الحديث: 3386،ط: دارالرسالة العالمية ) عن حكيم بن حزام: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معه بدينار يشتري له أضحية، فأشتراها بدينار، وباعها بدينارين، فرجع فاشترى له أضحية بدينار، وجاء بدينار إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فتصدق به النبي صلى الله عليه وسلم، ودعا له أن يبارك له في تجارته. الهندية: (3/ 161،ط: دارالفكر) اشترى متاعا ورقم بأكثر من ثمنه فباعه مرابحة على الرقم جاز.