السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اگر پھل پکے یا کچے ہونے کی حالت میں ٹھیکیدار کو بیچ دیے جائیں تو ان کی زکوۃ مالک پر لازم ہے یا ٹھیکیدار پر ؟
واضح رہے کہ اگر باغ کے مالک نے پھل پکنے کے بعد فروخت کیے تو بالاتفاق عشر یا نصفِ عشر مالک کے ذمہ ہوگا اور اگر پھل پکنے سے پہلے فروخت کیے اور مالک نے پھلوں کو درختوں پر چھوڑنے کی شرط نہیں لگائی، بلکہ اپنی طرف سے خریدار کو پھل درختوں پر چھوڑنے کی اجازت دے دی تو اس کی دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ خریدار خریدنے کے بعد پھلوں کو درختوں سے کاٹ لے۔ اس صورت میں بھی بالاتفاق عشر یا نصفِ عشر مالک کے ذمے ہوگا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ خریدار پھلوں کو درختوں پر ہی رہنے دے اور اسی حالت میں پھل پک جائیں۔ اس صورت میں امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک عشر یا نصفِ عشر خریدار کے ذمے ہوگا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کچے پھل جس قیمت پر فروخت کیے گئے تھے، اس قیمت کے بقدر عشر یا نصفِ عشر فروخت کنندہ (مالک) کے ذمہ ہوگا، جبکہ پھل پکنے کے بعد قیمت میں ہونے والے اضافے کے بقدر عشر یا نصفِ عشر خریدار کے ذمہ ہوگا۔ مذکورہ مسئلے میں اصل مفتیٰ بہ قول امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کا ہے، لیکن موجودہ دور میں ہر صورت میں اسی قول پر عمل کرنے سے بعض حالات میں شدید حرج لازم آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل اکثر علاقوں میں عرف و رواج یہ ہے کہ باغ کا مالک پھل اس قیمت پر فروخت کرتا ہے کہ اگر عشر یا نصفِ عشر خریدار، یعنی ٹھیکیدار، پر لازم کیا جائے تو اسے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اس صورت میں پورا نفع بائع کو حاصل ہوتا ہے، لہٰذا اس شدید حرج کے پیش نظر، علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کے بیان کردہ اصول کے مطابق، جہاں اس نوعیت کا شدید حرج پایا جائے وہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر عمل کیا جائے گا۔ یعنی کچے پھل جس قیمت پر فروخت کیے گئے تھے، اس قیمت کے بقدر عشر یا نصفِ عشر فروخت کنندہ (مالک) کے ذمے ہوگا، جبکہ پھل پکنے کے بعد قیمت میں جو اضافہ ہوا، اس اضافی قیمت کے بقدر عشر یا نصفِ عشر خریدار کے ذمہ ہوگا۔ البتہ جہاں اس قسم کا عرف و رواج نہ ہو اور خریدار پر عشر یا نصفِ عشر لازم کرنے سے کوئی شدید حرج پیدا نہ ہوتا ہو، وہاں امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے قول کے مطابق مکمل عشر یا نصفِ عشر خریدار کے ذمہ لازم ہوگا۔
الشامية :(2/ 333،ط:دارالفكر) ولو باع الزرع إن قبل إدراكه فالعشر على المشتري ولو بعده فعلى البائع» «(قوله: ولو باع الزرع إلخ) الظاهر أن حكم خراج المقاسمة كالعشر كما يعلم مما مر ح ثم هذا إذا باع الزرع وحده وشمل ما إذا باعه وتركه المشتري بإذن البائع حتى أدرك فعندهما عشره على المشتري وعند أبي يوسف عشر قيمة القصيل على البائع، والباقي على المشتري كما في الفتح. ایضاً:(334/2) "والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ قوله:( وفي الحاوي) أي القدسي ح (قوله وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه، وكذا حامد أفندي العمادي وقال في فتاواه قلت: عبارة الحاوي القدسي لا تعارض عبارة غيره فإن قاضي خان من أهل الترجيح فإن من عادته تقديم الأظهر والأشهر وقد قدم قول الإمام فكان هو المعتمد وأفتى به غير واحد منهم زكريا أفندي شيخ الإسلام وعطاء الله أفندي شيخ الإسلام، وقد اقتصر عليه في الإسعاف والخصاف. اهـ. قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف ولا شيء عليه من عشر وغيره أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد والله تعالى أعلم." بدائع الصنائع: (2/ 56،ط:دار الکتب العلمية) ولو باع الأرض العشرية وفيها زرع«قد أدرك مع زرعها أو باع الزرع خاصة فعشره على البائع دون المشتري؛ لأنه باعه بعد وجوب العشر وتقرره بالإدراك. ولو باعها والزرع بقل فإن قصله المشتري للحال فعشره على البائع أيضا لتقرر الوجوب في البقل بالقصل. وإن تركه حتى أدرك فعشره على المشتري في قول أبي حنيفة ومحمد لتحول الوجوب من الساق إلى الحب. وروي عن أبي يوسف أنه قال: عشر قدر البقل على البائع وعشر الزيادة على المشتري. وكذلك حكم الثمار على هذا التفصيل. نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف:(2/ 133،ط:در سعادت) «واما العرف الخاص إذا عارض النص المذهبي المنقول عن صاحب المذهب فهو معتبر كما مشى عليه أصحاب المتون والشروح والفتاوى في الفروع التي ذكرناها وغيرها وشمل العرف الخاص القديم والحادث كالعرف العام.