السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! پوچھنا یہ تھا کہ زرعی زمین جو کھیتی باڑی وغیرہ کیلئے ہے، اس میں پانی تو ندی کا استعمال ہوتا ہے، لیکن اس میں مشین لگا کر پانی آگے کھیتوں تک سپلائی کرتے ہیں اور مشین شمسی سولر وغیرہ سے چلتی ہے ۔ تو اس کا کیا حساب ہوگا یعنی دسواں حصہ عشر لازم ہوگا یا 20 واں حصہ ہوگا اور اس میں یوریا وغیرہ بھی لگتا ہے اور ٹریکٹر سے ہل چلاتے ہیں وہ بھی اخراجات ہیں، اس کا کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں بتائیں۔
واضح رہے کہ اگر زمین کو بارش یا نہری پانی کے ذریعہ بلا خرچ سیراب کیا جائے تو اس کی پیداوار میں عشر (دسواں حصہ) واجب ہوتا ہے اور اگر پانی مشین، ٹیوب ویل یا کسی ایسے ذریعے سے حاصل کیا جائے جس میں خرچ آتا ہو تو اس میں نصف عشر (بیسواں حصہ) واجب ہوتا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ پانی شمسی (سولر) سسٹم کے ذریعے مشین سے پہنچایا جا رہا ہے اور اس میں اخراجات اور آلات کا استعمال شامل ہے، اس لیے اس پیداوار پر نصف عشر ہی واجب ہوگا، نیز ٹریکٹر، مزدوری یا دیگر زرعی اخراجات کو منہا نہیں کیا جائے گا، بلکہ کل پیداوار سے ہی نصف عشر ادا کرنا لازم ہوگا۔
*ردالمحتار:(325/2،ط:دار الفکر)* (قوله يجب العشر) ثبت ذلك بالكتاب والسنة والإجماع والمعقول: أي يفترض لقوله تعالى ﴿وآتوا حقه يوم حصاده﴾ [الأنعام: ١٤١] فإن عامة المفسرين على أنه العشر أو نصفه وهو مجمل بينه قوله ﷺ «ما سقت السماء ففيه العشر وما سقي بغرب أو دالية ففيه نصف العشر». *تبیین الحقائق:(293/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)* قال۔ (ونصفه في مسقي غرب ودالية) أي يجب نصف العشر فيما سقي بغرب أو دالية وهو معطوف على الضمير الذي في يجب وجاز ذلك لوقوع الفصل وإنما يجب فيه نصف العشر لما روينا ولأن المؤنة تكثر فيه وتقل فيما سقي سيحا أو سقته السماء وإن سقي سيحا وبدالية فالمعتبر أكثر السنة كما مر في السائمة والعلوفة. *البحر الرائق:(256/2،ط:دار الكتاب الإسلامي)* (قوله: ونصفه في مسقى غرب ودالية) أي ويجب نصف العشر فيما سقي بآلة للحديث والغرب دلو عظيم والدالية دولاب عظيم تديره البقر، وإن سقي بعض السنة بآلة، والبعض بغيرها فالمعتبر أكثرها كما مر في السائمة والعلوفة، وإن استويا يجب نصف العشر نظرا للفقراء كما في السائمة، وظاهر الغاية وجوب ثلاثة أرباع العشر (قوله: ولا ترفع المؤن) أي لا تحسب أجرة العمال ونفقة البقر وكري الأنهار وأجرة الحافظ وغير ذلك؛ لأن النبي - ﷺ - حكم بتفاوت الواجب لتفاوت المؤنة فلا معنى لرفعها أطلقه فشمل ما فيه العشر وما فيه نصفه فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا إلا أن ما تكلفه يأخذه بلا عشر أو نصفه. *بدائع الصنائع:(62/2،ط:دار الكتب العلمية)* ولا يحتسب لصاحب الأرض ما أنفق على الغلة من سقي، أو عمارة، أو أجر الحافظ، أو أجر العمال، أو نفقة البقر؛ لقوله - ﷺ - «ما سقته السماء ففيه العشر وما سقي بغرب، أو دالية، أو سانية ففيه نصف العشر»، أوجب العشر ونصف العشر مطلقا عن احتساب هذه المؤن.