میں نے اپنا باغ پانچ لاکھ روپے میں ایک سال کے اجارہ پر دیا ہے، اب میرے اوپر پانچ لاکھ میں زکوۃ دینا لازم ہے یا عشر لازم ہوگا؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین کرایہ پر دے تو مالک اگر کرایہ بہت زیادہ لیتا ہے اور کرایہ دار کو کم بچت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں عشر زمین کے مالک پر ہوگا اور اگر زمین کا مالک کرایہ کم لیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کرایہ دار کو بچت زیادہ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں زمین کا عشر کرایہ دار کے ذمہ لازم ہوگا۔
اس زمانے میں عمومی رجحان یہ ہے کہ کرایہ اجرت ِ مثل سے کم ہوتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کرایہ دار کو بچت زیادہ ہوتی ہے ، اس لیے موجودہ زمانے میں از روئے فتویٰ عشر کرایہ دار پر ہوگا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ نے اپنی زمین (باغ) ایک سال کے لیے پانچ لاکھ روپے کرایہ پر دی ہے اور موجودہ زمانے میں عام طور پر زمین کا کرایہ اجرتِ مثل سے کم ہوتا ہے، جبکہ کرایہ دار کو فصل یا آمدنی سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے، اس لیے شرعاً عشر کرایہ دار پر لازم ہوگا، نہ کہ مالکِ زمین پر، البتہ مالك كو جو پانچ لاکھ روپے کرایہ کے طور پر حاصل ہوئے ہیں، اگر وہ نصاب کے برابر ہوں اور سال مکمل ہونے پر باقی ہوں تو ان پر ڈھائی فیصد (۲.۵٪) زکوٰۃ واجب ہوگی۔
*الدرالمختارمع رد المحتار:(334/2،ط: دار الفکر)*
والعشر على المؤجر كخراج موظف، وقالا: على المستأجر كمستعير مسلم.وفي الحاوي: وبقولهما نأخذ.
(قوله: والعشر على المؤجر) أي لو أجر الأرض العشرية فالعشر عليه من الأجرة كما في التتارخانية وعندهما على المستأجر قال في فتح القدير: لهما أن العشر منوط بالخارج وهو للمستأجر وله أنها كما تستنمى بالزراعة تستنمى بالإجارة فكانت الأجرة مقصودة كالثمرة فكان النماء له معنى مع ملكه فكان أولى بالإيجاب عليه
*المبسوط للسرخی:(5/3،ط:دارالمعرفةبیروت)*
(قال ) رجل استاجر ارضا من ارض العشر وزرعہا قال: عشر ما خرج منہا علی رب الارض بالغا ما بلغ سواء کان اقل من الاجر،اواکثر فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ وقال ابو یوسف ومحمد رحمہمااللہ العشر فی الخارج علی المستاجر وجہ قولھما ان الواجب جزء من الخارج والخارج کلہ للمستاجر فکان العشر علیہ کا لخارج فی ید المستعیر للارض وابو حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی یقول : وجوب العشر باعتبار منفعۃ الارض والمنفعۃ سلمت للٓا جر لانہ استحق بدل المنفعۃوھی الاجرۃ وحکم البدل حکم الاصل اما المستاجرفانما سلمت لہ المنفعۃ بعوض فلا عشر علیہ کالمشتری للزرع ثم العشر مؤنۃ الارض النامیہ کالخراج وخراج ارض المواجر علی المواجر فکذالک العشر علیہ.
*کذافی احسن الفتاوی:(4/347،ط:ایچ ایم سعید)*
*کذا فی فتاوی مفتی محمود:(3/259،ط: جمعیت پبلی کیشنز)*