زکوۃ کی رقم سے غریب لوگوں کے لیے قبرستان کی زمین خریدنے کاکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی تاجر شخص اپنی زکوۃ کی رقم سے قبرستان کی زمین خرید کر غریبوں کے لیے وقف کرے ، تو کیا ازروئے شریعت اس کا یہ فعل جائز ہے ؟
واضح رہے کہ زکوۃ کی رقم کا کسی مستحق کو مالک بنانا ضروری ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں زکوۃ کی رقم سے قبرستان کے لیے زمین خریدنا اور اسے غریب لوگوں کے لیے وقف کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔
الدرالمختار : (2/ 344، ط: دارالفكر) ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه). الهندية: (1/ 188، ط : دارالفكر) ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين .