کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے گھر میں کام کرنے والی ایک بیوہ بوڑھی عورت ہے جو شہر کے مضافات میں ایک چھوٹے سے ذاتی مکان میں رہتی ہے اس کے پاس ایک گائے بھی ہے ،جس کا دودھ بیچ کر وہ گزارا کرتی ہے، وہ دودھ بیچنے کے لیے دوسری گائے خریدنا چاہتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ دوسری گائے کے خریداری میں زکوۃ کی رقم سے اس کے ساتھ مدد کی جا سکتی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ مذکورہ عورت اگرزکوۃ کی مستحق ہے، توانکو زکوۃ دینا جائز ہے۔
القرأن الكريم : [التوبة:/2 60] إِنَّمَا ٱلصَّدَقَٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱلۡعَٰمِلِينَ عَلَيۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَٰرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۖ فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٞ . الهندية: (1/ 189، ط: دارالفكر) ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحا مكتسبا كذا في الزاهدي. ولا يدفع إلى مملوك غني غير مكاتبه كذا في معراج الدراية. حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: (ص719، ط: دارالكتب العلمية ) هو الفقير وهو: من يملك مالا يبلغ نصابا ولا قيمته من أي مال كان ولو صحيحا مكتسبا.