کسی شخص کے پاس سواری میں پانی موجود ہو، لیکن وہ پانی کو بھول گیا اور تیمم کر کے اس نے نماز پڑھی تو کیا نماز ادا ہو گئی یا نہیں؟
اگر کسی شخص کے پاس پانی موجود تھا، مگر وہ اسے بھول گیا اور تیمم کر کے نماز ادا کر لی، پھر نماز کے بعد اسے پانی یاد آیا، چاہے وقت کے اندر ہو، یا وقت گزرنے کے بعد تو اس نماز کا اعادہ لازم نہیں، بشرطیکہ یہ آدمی شہر سے باہر کسی ایسی جگہ موجود ہو جہاں ایک میل تک پانی نہ ہو اور پانی ایسی جگہ رکھ کر بھول گیا ہو جہاں اسے رکھ کر بھول جانا ممکن ہو۔
بدائع الصنائع:(49/1،ط:دار الكتب العلمية) وعلى هذا الأصل يخرج مسافر تيمم، وفي رحله ماء لم يعلم به، حتى صلى، ثم علم به أجزأه في قول أبي حنيفة، ومحمد ولا يلزمه الإعادة. المبسوط للسرخسي:(121/1،ط:دار المعرفة) قال (وإذا تيمم وفي رحله ماء لا يعلم به بأن كان نسيه بعد ما وضعه أو وضعه بعض أهله فصلاته بالتيمم جائزة) عند أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى ولا تجوز عند أبي يوسف - رحمه الله تعالى - قال؛ لأن الماء في السفر من أهم الأشياء عند المسافر فقد نسي ما لا ينسى عادة فلا يعتبر نسيانه كما لو كان الماء على ظهره أو معلقا في عنقه فنسيه لا يعتبر نسيانه.