مفتی صاحب ! منہ دکھائی کی رسم شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ اسلام میں منہ دکھائی کی رسم کی کوئی شرعی حیثیت یا اصل نہیں ہے، مزید یہ کہ اس رسم کے موقع پر دلہن کو محرم و غیر محرم سب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا اس قسم کی مروجہ رسم سے اجتناب کرنا اور اسے ترک کرنا ضروری ہے، البتہ اگر صرف محرم ہی منہ دکھائی کی رسم کرے اور کوئی غیر شرعی امر نہ ہو تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور دلہن کے لیے فی نفسہ وہ رقم یا تحائف لینا شرعاً جائز ہے ۔
الدر المختار:(1/ 406،ط:دار طوق النجاۃ) (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) كمسه وإن أمن الشهوة لأنه أغلظ، ولذا ثبت به حرمة المصاهرة. سنن الترمذي: (رقم الحدیث:2471،ط:دار الرسالة العالمية) عن الزهري عن علي بن حسين، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه"