مفتی صاحب! رخصتی کے وقت دلہن کے سر پر قران کریم رکھنا کیسا ہے جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ دلہن کی رخصتی کے وقت اس کے سر پر قرآن کریم کا سایہ کرنا یہ محض ایک رسم ہے، جس کی اسلام میں کوئی اصل نہیں ہے، اگر یہ رسم سنت اور باعث ثواب سمجھ کر کی جائے تو یہ بدعت کے زمرے میں آتی ہے، اس لیے اس طرح کی رسموں سے احتراز کرنا چاہیے۔
سنن الترمذي: (4/ 354،ط:دار الرسالة العالمية) 2471 - حدثنا قتيبة، حدثنا مالك بن أنس، عن الزهري عن علي بن حسين، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه" الشامية: (1/ 560،ط:دارالفكر) (ومبتدع) أي صاحب بدعة وهي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول لا بمعاندة بل بنوع شبهة... (قولہ وھی اعتقاد الخ) عزاہ ھذا التعریف فی ھامش الخزائن إلی الحافظ ابن حجر فی شرح النخبۃ (إلی قولہ) وحینئذ فیساوی تعریف الشمنی لھا بأنھا ما أحدث علی خلاف الحق المتلقی عن رسول اللہ ﷺ من علم أو عمل او حال بنوع شبھۃ واستحسان وجعل دینا قویما وصراطًا مستقیمًا.