مفتی صاحب! مایوں بٹھانے کی رسم کرنا شریعت میں کیسا ہے؟ ہمارے ہاں جب کسی لڑکی کے نکاح کی تاریخ متعین کی جاتی ہے تو پھر نکاح کے قریبی دنوں میں لڑکی کو الگ سے بٹھا دیتے ہیں، اس کو کسی کے سامنے آنے نہیں دیتے حتی کہ اپنے بھائیوں وغیرہ کے سامنے بھی نہیں آتی تو کیا یہ شریعت میں درست ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ مایوں اور تلے (تالے) کی رسم ایک ہندوانہ رسم ہے، جس کی شریعتِ اسلامیہ میں کوئی اصل نہیں، اسلام نے مسلمانوں کو غیر مسلم اقوام کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، لہٰذا ایسی رسومات سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ مزید برآں، مایوں اور تلے کی رسومات میں بہت سی ایسی خرافات اور ناجائز امور بھی پائے جاتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہیں، مثلاً اپنے محرم رشتہ داروں سے پردہ کرانا اور اسے ضروری سمجھنا، نیز اس موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کرنا، لوگوں کو دعوت دینا اور ایسی محفلیں سجانا جن میں مرد و خواتین یا لڑکے اور لڑکیاں شوخ و جاذبِ نظر لباس پہن کر بے پردگی اور دیگر غیر شرعی امور کا ارتکاب کرتے ہیں، لہٰذا مذکورہ رسم و رواج اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں ، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسی غیر اسلامی رسومات سے اجتناب کریں۔
صحيح البخاري: (رقم الحدیث:6488،ط:دار طوق النجاۃ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:أَنّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: (أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ). سنن أبي داود: (رقم الحدیث:4031،ط: دار الرسالة العالمية) عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:، من تشبه بقوم فهو منهم"