مفتی صاحب! ہمارے ہاں شادی کی ایک رسم ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ متعین کرنے کے لیے لال خط میں جاتے ہیں تو شریعت میں شادی کی رسم لال خط بھیجنا اور اس میں جانا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ تاریخ کی منظوری کے لیے لال رنگ کا خط بھیجنا محض ایک رسم اور لایعنی کام ہے، جس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں، اسلام ایسی بے بنیاد رسومات کے خاتمے کے لیے آیا ہے اور غیر مسلم اقوام کی مشابہت اختیار کرنے سے بھی منع کرتا ہے، لہٰذا ایک مسلمان کو ایسی رسومات سے اجتناب کرنا چاہیے اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
صحيح البخاري: (رقم الحدیث:6488،ط:دارالفکر) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:أَنّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: (أَبْغَضُ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: مُلْحِدٌ فِي الْحَرَمِ، وَمُبْتَغٍ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمُطَّلِبُ دَمِ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لِيُهَرِيقَ دَمَهُ). سنن الترمذي: (رقم الحدیث:2471،ط:دار الرسالة العالمية) عن علي بن حسين، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه"