کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے یہاں رواج ہے، جب ایک آدمی فوت ہو جائے، فوت ہونے کے بعد اس کے نام پر دعوت کا اہتمام ہوتا ہے تو ہمارے خاندان میں ایک شخص ہے، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میں اپنی دعوت خود اپنی زندگی میں کرنا چاہتا ہوں، بعد میں میرے نام پر کوئی دعوت نہیں ہوگی، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
جس گھر میں فوتگی ہوجائے تو قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں کے لیے مستحب ہے، کہ اہل میت کے لیے دو وقت کا کھانا تیار کر کے بھیجیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں، ان كو بھی کھلائیں، اہل میت کی طرف سے لوگوں کی دعوت کرنا اور اسے لازم سمجھنا بدعت ہے۔ اسی طرح تیجہ، چالیسواں کے موقع پر دعوت کرنا غلط رسم اور بدعت ہے، لہذا اس طرح کی دعوتیں کرنا اور اس میں شرکت سے اجتناب ضروری ہے، لہذا اس نیت سے اپنی زندگی میں بھی دعوت کرنا صحیح نہیں ، تاہم اس نیت کے بغیر دعوت کر سکتے ہیں ۔
*صحيح البخاري:(184/3رقم الحديث:2697،ط:دار طوق النجاة)* حدثنا يعقوب: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن القاسم بن محمد، عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد. *فتح القدير للكمال بن الهمام:(142/2،ط:دار الفكر)* ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة. ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم لقوله ﷺ «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون، والله أعلم. *الاعتصام للشاطبي: (53/1، ط: دار ابن عفان)* ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته. *ایضًا: (1/ 485،ط:دار ابن عفان)* [فصل من البدع الإضافية إخراج العبادة عن حدها الشرعي] ومن البدع الإضافية التي تقرب من الحقيقية: أن يكون أصل العبادةمشروعا؛ إلا أنها تخرج عن أصل شرعيتها بغير دليل توهما أنها باقية على أصلها تحت مقتضى الدليل، وذلك بأن يقيد إطلاقها بالرأي، أو يطلق تقييدها، وبالجملة؛ فتخرج عن حدها الذي حد لها-----ومن ذلك قراءة القرآن بهيئة الاجتماع عشية عرفة في المسجد للدعاء تشبها بأهل عرفة.