السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص ہر سال رمضان المبارک میں اپنے مرحوم والد صاحب کی طرف سے افطاری کا اہتمام کرتا ہے،
اب حالات کے پیشِ نظر افطاری پر کافی خرچ (تقریباً 30 تا 50 ہزار روپے) آتا ہے، اس لیے وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا وہ یہ رقم کسی مسجد میں افطاری کے انتظام کے لیے دے سکتا ہے، تاکہ وہاں روزہ داروں کو افطار کرایا جائے؟
اگر کوئی شخص کسی کام کو کچھ عرصے سے کر رہا ہو تو وہ اس پر لازم نہیں ہو جاتا، اگر وہ اس کو کسی وجہ سے ترک کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن بلا عذر نیکی کو ترک کرنا مناسب بھی نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں مسجد یا کسی دینی ادارے میں افطاری کے لیے رقم دینا جائز ہے اور ایسا کرنے سے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی، بلکہ امید ہے کہ زیادہ لوگوں کے افطار کرنے کی وجہ سے ثواب میں اضافہ ہوگا۔
*الترمذي:(160/2،رقم الحديث:807،ط:دار العرب الاسلامي)*
عن زيد بن خالد الجهني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من فطر صائما كان له مثل أجره، غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا. هذا حديث حسن صحيح.
*صحیح مسلم:(73/5، رقم الحدیث1630،ط:دارالطباعة العامرة تركية)*
حدثنا يحيى بن أيوب، وقتيبة بن سعيد وعلي بن حجر قالوا: حدثنا إسماعيل (وهو ابن جعفر ) عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة: « أن رجلا قال للنبي ﷺ: إن أبي مات وترك مالا ولم يوص، فهل يكفر عنه أن أتصدق عنه؟ قال: نعم ».