السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ میرے والد صاحب کی خواہش کے اپنے مرحوم والدین اور بھائی کے ایصال ثواب کیلئے بھینس ذبح کریں اس وقت میرے ایک غریب ماموں ہے جوکہ معذور بھی ہے وہ اپنے بیٹے کی شادی کروانا چاہتے ہیں پوچھنا یہ ہے کہ میرے والد صاحب بھینس خرید کر ان کو گفٹ کر دے تو کیا اس سے مرحومین کے لیے ایصال ثواب بھی ہوجائےگا اور ان کی شادی کی رسم بھی ادا ہوجائےگی ،اس طرح کرنا شریعت کے رو سے جائز ہے کہ نہیں
واضح رہے کہ اپنے مرحومین کے لیے ایصال ثواب کی نیت سے کسی چیز کا صدقہ کرنا جائز ہے اور اس کا ثواب مرحوم کو پہنچتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اپنے غریب ماموں کو بطور صدقہ ایصال ثواب کی نیت سے جانور دینا جائز ہے ، آگے پھر اس کی مرضی ہے کہ وہ شادی میں ذبح کرے یا اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بیچ دےـ
*سنن أبي داود: (رقم الحدیث:1681،ط:دار الرسالة العالمية)* عن سعد بن عبادة، أنه قال: يا رسول الله، إن أم سعد ماتت، فأي الصدقة أفضل؟ قال: "الماء" قال: فحفر بئرا، وقال: هذه لأم سعد. *الشامية: (2/ 243،ط:دارالفکر)* صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة.