سحر و افطار

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھجور سے افطار کرنا

فتوی نمبر :
1974
عبادات / روزہ و رمضان / سحر و افطار

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھجور سے افطار کرنا

مفتی صاحب!
ایک صاحب کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور اور پانی سے افطاری کرتے تھے کیا یہ صحیح ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حضور ﷺ کا عام طور پر افطاری میں معمول مبارک یہ تھا کہ آپ ﷺ کھجور سے افطاری فرمایا کرتے تھے، اگر کجھور دستیاب نہ ہوتی تو پھر چھوارے سے افطار فرماتے تھے اور اگر چھوارے بھی دستیاب نہ ہوتے تو پھر آپ پانی سے افطاری کر لیا کرتے تھے۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي: (رقم الحدیث:696،ط:دارالغرب الاسلامي)*
حدثنا محمد بن رافع ، قال: حدثنا عبد الرزاق، قال: أخبرنا جعفر بن سليمان، عن ثابت ، عن أنس بن مالك قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم ‌يفطر ‌قبل ‌أن ‌يصلي ‌على ‌رطبات، فإن لم تكن رطبات فتميرات، فإن لم تكن تميرات حسا حسوات من ماء.
هذا حديث حسن غريب.

*مرقاة المفاتيح: (4/ 1385،ط:دارالفكر)*
-وعن أنس قال: «‌كان ‌النبي صلى الله عليه وسلم ‌يفطر ‌قبل ‌أن ‌يصلي على رطبات، فإن لم يكن رطبات فتميرات، فإن لم تكن تميرات حسا حسوات من ماء .
رواه الترمذي وأبو داود، وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 1974کی تصدیق کریں