السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ایک مسئلہ پوچھنا ہےکہ آج کل لوگ سیاسی علمائے کرام کو گالی دیتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
کسی عام مسلمان کو گالی دینا سخت گناہ اور فسق کا سبب ہے، حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’ ’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کفر ہے۔‘‘
علما ئے دین کا اللہ تعالی کے ہاں بڑا مقام ہے، نبی کریم ﷺ نے انہیں انبیائے کرام علیہم السلام کا وارث قرار دیا ہے، اس لیے انہیں بغیر کسی سبب ظاہری کے برا بھلا کہنا یا گالی دینا نا جائز اور حرام ہے، فقہائے کرام نے ایسے شخص کے ایمان کے سلب ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
نیز واضح رہے کہ سیاست اور اسلام میں کوئی تصادم نہیں ہے، سیاستِ شرعیہ اسلام کا حصہ ہے۔حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:دین اور سیاست لازم ملزوم ہیں۔انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام دین اور سیاست دونوں کے حامل ہوتے ہیں اور خود بھی سیاسی امور میں شریک اور عامل رہتے ہیں، اسلام اس معاملہ میں خصوصی امتیاز رکھتا ہے، اس کی ابتدائی منزل ہی سیاست سے شروع ہوتی ہے اور اس کی تعلیم مسلمانوں کی دینی اور سیاسی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی اور کفیل ہے ، قرآن پاک میں جنگ و صلح کے قوانین و اَحکام موجود ہیں، کتبِ احادیث و فقہ میں عبادات و معاملات کے پہلو بہ پہلو ملکی سیاست کے مستقل ابواب موجود ہیں، دین کے ماہر شرعی سیاست کے بھی ماہر ہوتے ہیں ۔(کفایت المفتی:9/304،ط:دارالاشاعت)
لہذا صحیح سیاست میں علمائے کرام کا حصہ لینا درست ہے اور محض سیاست میں حصہ لینے کی وجہ سے انہیں برا بھلا کہنا ناجائز اور حرام ہے، اس سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر کسی کی سیاسی پالیسی سے اختلاف ہو تو دائرہ اخلاق میں رہتے ہوئے اس کی ذات کو نشانہ بنائے بغیر اعتراض اور تنقید کی گنجائش ہے ۔
*صحيح البخاري: (9/50،رقم الحدیث: 7076، ط: دارطوق النجاة)*
حدثنا عمر بن حفص: حدثني أبي: حدثنا الأعمش: حدثنا شقيق قال: قال عبد الله:قال النبي ﷺ: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر.
*مرقاةالمفاتيح:(3026/7،ط: دار الفكر)*
(وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: سباب المسلم): بكسر أوله أي: شتمه وهو من باب إضافة المصدر إلى مفعوله (فسوق) لأن شتمه بغير حق حرام قال الأكمل: الفسوق لغة الخروج زنة ومعنى، وشرعا هو الخروج عن الطاعة (وقتاله) أي: محاربته لأجل الإسلام (كفر) كذا قاله شارح لكن بعده لايخفى لأن هذا من معلوم الدين
بالضرورةفلا يحتاج إلى بيانه بل المعنى مجادلته ومحاربته بالباطل كفر بمعنى: كفران النعمة والإحسان في أخوة الإسلام، وأنه ربما يئول إلى الكفر، أو أنه فعل الكفرة أو أراد به التغليظ والتهديد والتشديد في الوعيد كما في قوله ﷺ: ««من ترك صلاة متعمدا فقد كفر»» نعم قتاله مع استحلال قتله كفر صريح.
*مجمع الأنهر: (695/1، ط: دار إحياء التراث العربي)*
(الرابع في الاستخفاف بالعلم)
وفي البزازية فالاستخفاف بالعلماء لكونهم علماء استخفاف بالعلم والعلم صفة الله تعالى منحه فضلا على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابة عن رسله فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود فإن افتخر سلطان عادل بأنه ظل الله تعالى على خلقه يقول العلماء بلطف الله اتصفنا بصفته بنفس العلم فكيف إذا اقترن به العمل الملك عليك لولا عدلك فأين المتصف بصفته من الذين إذا عدلوا لم يعدلوا عن ظله والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر.ومن قال للعالم عويلم أو لعلوي عليوي قاصدا به الاستخفاف كفر.ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر ومن بغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر وتطلق امرأته ثلاثا إجماعا كما في مجموعة المؤيدي نقلا عن الحاوي لكن في عامة المعتبرات أن هذه الفرقة فرقة بغير طلاق عند الشيخين فكيف الثلاث بالإجماع، تدبر.
حكي أن فقيها وضع كتابه في دكان وذهب ثم مر على ذلك الدكان فقال صاحب الدكان هاهنا نسيت المنشار فقال الفقيه: عندك لي كتاب لا منشار، فقال صاحب الدكان: النجار يقطع الخشبة بالمنشار وأنتم تقطعون به حلق الناس أو قال حق الناس أمر ابن الفضل بقتل ذلك الرجل لأنه كفر باستخفاف كتاب الفقيه وفيه إشعار بأن الكتاب إذا كان في غير علم الشريعة كالمنطق والفلسفة لا يكون كفرا لأنه يجوز إهانته في الشريعة.