کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کہیں جگہوں پر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب بھائی نیا گھر بناتا ہے ،تو بہن اس گھر میں اپنا کنگن باندھ دیتی ہے، ایسا کرنا کہاں تک جائز ہے ؟اگر کوئی بہن خوشی کے ساتھ ایسا کرے ،تو اس کا کیا حکم ہے؟
نیز لوگوں کا یہ عمل شرک اور بدعت تو نہیں ؟
برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائی
واضح رہے کہ یہ محض ایک رسم ہے ،جس کی کوئی اصل نہیں ہے ،لہذا اس سے احتراز بہتر ہے۔
صحيح البخاري: (3/ 184، رقم الحديث: 2697، ط: دار طوق النجاة)
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد .
عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (13/ 274، ط: دارالفكر)
قوله: (من أحدث في أمرنا هذا) الإحداث في أمر النبي، صلى الله عليه وسلم، هو اختراع شيء في دينه بما ليس فيه، مما لا يوجد في الكتاب والسنة.