زیب و زینت

مونچھوں کو بلیڈ یا قینچی سے کاٹنے کا حکم

فتوی نمبر :
1395
آداب / آداب زندگی / زیب و زینت

مونچھوں کو بلیڈ یا قینچی سے کاٹنے کا حکم

کیا مونچھوں کو بلیڈ سے کاٹنا یا مونڈنا گناہ اور مکروہ ہے اور قینچی سے کاٹنا ثواب ہے ،بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مکروہ ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ صفائی کا سبب ہے۔ شرعی طور پر اس کی کیا حقیقت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مونچھوں کو چھوٹا کرنا سنت ہے، فقہائے کرام نے بلیڈ سے بالکل صاف کرنے کو غیر مستحسن اور قینچی سے تراشنے کو مستحسن قرار دیا ہے، لہٰذا مونچھوں کو قینچی سے چھوٹا کیا جائے۔

حوالہ جات

*الشامية: (2/ 550،ط:دارالفكر)*
واختلف في المسنون ‌في ‌الشارب هل هو القص أو الحلق؟ والمذهب عند بعض المتأخرين من مشايخنا أنه القص. قال في البدائع: وهو الصحيح.

*الهندية: (5/ 358،ط:دارالفكر)*
ويأخذ من شاربه حتى يصير مثل الحاجب كذا في الغياثية.وكان بعض السلف يترك سباليه هما أطراف الشوارب كذا في الغرائب.ذكر الطحاوي في شرح الآثار أن ‌قص ‌الشارب حسن، وتقصيره أن يؤخذ حتى ينقص من الإطار وهو الطرف الأعلى من الشفة العليا قال والحلق سنة وهو أحسن من القص وهذا قول أبي حنيفة وصاحبيه رحمهم الله تعالى كذا في محيط السرخسي..

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
53
فتوی نمبر 1395کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --