زیب و زینت

عورت کے لیے بجنے والے زیورات کا حکم

فتوی نمبر :
718
آداب / آداب زندگی / زیب و زینت

عورت کے لیے بجنے والے زیورات کا حکم

السلام علیکم !
حضرت پوچھنا یہ ہے کہ یہ خواتین جو زیورات پہنتی ہیں، اس میں جو بجنے والے زیورات ہیں کیا اپنے گھر میں یعنی Individual (انفرادی) رہتے ہوں تو پہننا اور مخلوط رہتے ہیں یعنی کہ مل کر رہنا کہ جیسے دو بھائی یا تین بھائی ساتھ رہتے ہیں تو ایسی صورت میں خواتین کا اس طرح کے زیورات پہننا جو بجتے ہوں جن سے آوازیں آتی ہوں کیسا ہے ؟شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان کرام جزاک اللہ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عورت کو سونے، چاندی کے ہر قسم کے زیورات پہننے کی اجازت دی گئی ہے، البتہ ایسے زیورات کہ جس سے غیر محرم كی نگاہ اس کی طرف مائل ہو یا چلنے سے ان زیورات میں جھنکار پیدا ہوتی ہو، پہننا جائز نہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر سب بھائی اکٹھے رہتے ہیں تو ایسا زیور پہننا درست نہیں، جس سے دیور کی نظر عورت کی طرف مائل ہو یا اس سے جھنکار پیدا ہوتی ہو، لیکن اگر Individual (انفرادی طور پر) گھر میں رہتے ہوں، گھر میں غیر محرم نہ ہوں تو ایسی صورت میں گھر کے اندر ایسے زیورات پہننا جائز ہے ۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(النور 31:24)*
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ.

*تفسیر الطبری:(273/17،ط: دار هجرللطباعة والنشر)*
حدثنا الحسن، قال: أخبرنا عبد الرزاق، قال: أخبرنا معمر، عن قتادة: ﴿ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن﴾ قال: «هو الخلخال، لا تضرب امرأة برجلها، ليسمع صوت خلخالها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
75
فتوی نمبر 718کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --