معاملات / احکام نکاح / متعہ و نکاح مسیار

بیٹے اور بیٹی کو دودھ پانے کی مدت میں فرق

فتوی نمبر : 131 0000-00-00 157 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

سوال : مفتی صاحب ! ہم نے سنا ہے کہ بیٹی کو ڈھائی سال اور بیٹے کو دو سال دودھ پلانا چاہیے کیا یہ بات درست ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی، شریعت نے دونوں کے لیے دودھ پلانے کی ایک ہی مدت مقرر کی ہے، اس میں کسی قسم کا فرق نہیں رکھا گیا،نیز دودھ پلانے کی مدت مفتیٰ بہ قول کے مطابق دو سال ہے ۔

القرآن الکریم :(البقرة: 233) وَٱلۡوَٰلِدَٰتُ يُرۡضِعۡنَ أَوۡلَٰدَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِۖ لِمَنۡ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَۚ السنن الكبرى للبيهقي: (7/ 761 ، رقم الحديث :15668ط: دارالكتب العلمية) عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: " ‌لا ‌رضاع إلا ما كان في الحولين
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیٹے اور بیٹی کو دودھ پانے کی مدت میں فرق
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
منگیتر سے بات چیت کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
حالتِ حمل میں دودھ پلانے کا حکم*
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیٹے کی ساس سے نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
کسی لڑکی کو شہوت سے ہاتھ لگانے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
رضاعی بیٹے کی بیٹی سے نکاح کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح موقت
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح کے بعد بیوی کوچھوڑنے کاحکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی اور اس کی سوتیلی ماں کو نکاح میں جمع کرنا