متعہ و نکاح مسیار

رضاعی بیٹے کی بیٹی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
145
معاملات / احکام نکاح / متعہ و نکاح مسیار

رضاعی بیٹے کی بیٹی سے نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی مرد کے لیے رضاعی بیٹے کی بیٹی سے نکاح جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب باسم ملہم الصواب

جس طرح سگے بیٹے کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں،ایسے ہی رضاعی بیٹے کی بیٹی سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔

حوالہ جات

دلائل :
القرآن الکریم :[النساء: 23]
ﵟحُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ أُمَّهَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُكُمۡ وَأَخَوَٰتُكُمۡ وَعَمَّٰتُكُمۡ وَخَٰلَٰتُكُمۡ وَبَنَاتُ ٱلۡأَخِ وَبَنَاتُ ٱلۡأُخۡتِ وَأُمَّهَٰتُكُمُ ٱلَّٰتِيٓ أَرۡضَعۡنَكُمۡ ﵞ

صحيح البخاري:رقم الحديث :2502 ، ط:دارابن كثير)
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم في بنت حمزة: (لا تحل لي، ‌يحرم ‌من الرضاع ما ‌يحرم ‌من النسب، هي بنت أخي من الرضاعة).

الهداية في شرح بداية المبتدي:(1/ 218، ط :دار احياء التراث العربي )
ولبن الفحل يتعلق به التحريم .

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
سیف اللہ خالد
متخصص جامعہ دارالعلوم حنفیہ ،کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
135
فتوی نمبر 145کی تصدیق کریں