مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ کی رقم سے مدرسہ کے لیے کولر وغیرہ خریدنے کا حکم

فتوی نمبر :
1200
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ کی رقم سے مدرسہ کے لیے کولر وغیرہ خریدنے کا حکم

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہمارے علاقے میں ایک مدرسہ ہے جو غریب بستی میں قائم ہے، وہاں چھوٹے چھوٹے بچے پڑھتے ہیں۔ پانی کی ضرورت پیش آئی تو میں نے کہا کہ اس کے لیے کوئی بڑا کولر وغیرہ لے لیا جائے۔ کیا اس مقصد کے لیے زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جا سکتی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے شرط یہ ہے کہ کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بغیر کسی عوض کے مالک بنایا جائے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زکوٰۃ کی رقم سے براہِ راست کولر وغیرہ لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں تملیک (کسی شخص کو مالک بنانا) پائی نہیں جاتی، البتہ اگر کولر کے لیے کوئی اور رقم موجود نہ ہو اور سخت مجبوری ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کاکسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بلاشرط مالک بنا دیا جائے، پھر وہ اپنی خوشی اور مرضی سے اس رقم کو کولر وغیرہ کے لیے ہبہ کر دے تو پھر اس رقم سے کولر وغیرہ خریدا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

*الهندية: (1/ 188،دارالفكر)*
ولا يجوز أن ‌يبني ‌بالزكاة ‌المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين، ولا يشترى بها عبد يعتق، ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي.

*البحر الرائق: (2/ 261،ط:دار الكتاب الاسلامي):*
والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن ‌يتصدق ‌بمقدار ‌زكاته ‌على ‌فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب كذا في المحيط.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
45
فتوی نمبر 1200کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --