ذکر دعاء اور درود

مسجد میں آرام کرتے ہوئے ذکرکرنا

فتوی نمبر :
1161
عبادات / عملیات و اذکار / ذکر دعاء اور درود

مسجد میں آرام کرتے ہوئے ذکرکرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں وہاں ایک مسجد ہے میں وہاں آرام کرنے جاتا ہوں اور آرام کرتے وقت ذکربھی کرتا ہوں پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح ذکرکرتے ہوئے مجھے ثواب ملے گا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی ہاں !اللہ تعالی سے امید ہے کہ آپ کو ضرور ثواب ملے گا ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[الأحزاب:/33 41]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ ذِكۡرٗا كَثِيرٗا .

الهندية:(5/ 321، ط: دارالفكر)
والخامس عشر ‌أن ‌يكثر ‌فيه ‌ذكر ‌الله تعالى، كذا في الغرائب.
بدائع الصنائع:(7/ 279، ط: دار الكتب العلمية )
أن الجلوس في المسجد لغير الصلاة من الحديث والنوم مباح .

البحر الرائق :(2/ 39، ط: دارالكتاب الاسلامي )
لأن المسجد بني لذكر الله تعالى ويجوز ‌الجلوس ‌في ‌المسجد ‌لغير ‌الصلاة ولا بأس به للقضاء كالتدريس والفتوى. اهـ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
45
فتوی نمبر 1161کی تصدیق کریں