ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ اس کے لیے کسی مناسب ادارے سے ایک مخصوص سروس/پیکج کا انتظام کروا دوں، چنانچہ میں نے مختلف اداروں سے معلومات حاصل کیں اور بالآخر ایک ادارے کے ساتھ اس کا معاملہ طے کروایا، بعد میں اس شخص نے مزید چند افراد بھی اس سروس کے لیے تیار کیے، جس کے نتیجے میں افراد کی تعداد بڑھ گئی۔ ادارے کے ذمہ دار نے مجھ سے کہا کہ اگر میں اس کے لیے گاہک یا افراد فراہم کروں اور ان کے ساتھ معاملہ طے کروانے میں واسطہ بنوں تو وہ مجھے فی فرد یا مجموعی طور پر طے شدہ کمیشن دے گا۔ میں نے ابتدا ہی میں متعلقہ شخص کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ اگر وہ مجھے اس معاملے میں واسطہ بنائیں گے تو ادارے کی طرف سے مجھے کمیشن ملے گا اور اگر براہِ راست معاملہ کریں گے تو پھر ادارے سے ان کا معاملہ الگ ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کردی۔ بعد میں ادارے کی طرف سے میری وساطت، رابطہ اور معاملہ طے کروانے کی خدمت کے عوض ایک مخصوص کمیشن طے ہوا۔ متعلقہ شخص کا کام بھی مکمل ہوگیا اور اسے مطلوبہ سروس بھی فراہم کردی گئی، لیکن کمیشن کی رقم طے ہونے کے باوجود تقریباً کئی ماہ گزر چکے ہیں اور وہ رقم ادا نہیں کر رہا، بلکہ آج کل پر ٹال رہا ہے۔ بعد ازاں اس نے اس انداز میں بھی گفتگو کی جس سے یہ محسوس ہوا کہ چونکہ اصل افراد یا گاہک وہ لے کر آیا تھا، اس لیے شاید اس کمیشن میں اس کا بھی حق بنتا ہے یا مجھے اس رقم کا مکمل استحقاق حاصل نہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے: کیا ادارے کی طرف سے طے شدہ یہ کمیشن میرے لیے شرعاً جائز اور میرا حق ہے؟ کیا صرف افراد یا گاہک لانے کی وجہ سے دوسرے شخص کا اس کمیشن میں کوئی حق بنتا ہے؟ جب ابتدا ہی میں کمیشن کی وضاحت کردی گئی تھی اور متعلقہ شخص نے اس پر رضامندی بھی ظاہر کردی تھی تو بعد میں اس رقم کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا اور کئی ماہ تک ٹال مٹول کرنا شرعاً کیسا ہے؟ اگر کسی شخص پر کسی کا طے شدہ حق یا واجب الادا رقم ہو اور وہ ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود بلا وجہ ٹالتا رہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسی صورت میں کمیشن کا مطالبہ کرنا میرے لیے شرعاً درست ہے؟
پوچھی گئی صورت میں اگر ابتدا ہی میں یہ بات واضح طور پر طے ہوگئی تھی کہ آپ ادارے کے ساتھ معاملہ طے کروانے، رابطہ کاری اور اپنی وساطت کے عوض ادارے سے فی فرد مقررہ کمیشن حاصل کریں گے اور متعلقہ شخص کو بھی اس کمیشن کی مقدار اور طریقۂ کار کا علم تھا اور اس نے اس پر رضامندی ظاہر کردی تھی تو بعد میں طے شدہ کمیشن میں اپنا حصہ ظاہر کرنا یا اسے روک لینا شرعاً درست نہیں۔ محض اس بنیاد پر کہ بعض افراد یا گاہک مذکور شخص کے ذریعے آئے تھے وہ آپ کے کمیشن میں خود بخود شریک نہیں ہو جاتا؛ کیونکہ کمیشن دینے والا فریق ادارہ تھا اور ادارے نے آپ کی وساطت اور خدمات کے عوض یہ کمیشن مقرر کیا تھا، لہٰذا اگر مذکور شخص کے ساتھ کمیشن میں شرکت کی کوئی شرط پہلے سے طے نہیں ہوئی تھی تو اس کمیشن میں اس کا شرعی حق ثابت نہیں ہوگا۔ جہاں کئی ماہ تک رقم روکنے کا تعلق ہے تو اگر مذکور رقم آپ کا طے شدہ اور واجب الادا حق ہے اور متعلقہ شخص ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود بلا کسی شرعی عذر کے اسے مسلسل مؤخر کر رہا ہے اور آج، کل پر ٹال رہا ہے تو ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں۔
المائدہ:(1؛6) ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ ترجمہ:’’اے ایمان والو! عہد و معاہدوں کو پورا کرو۔‘‘ صحیح البخاری، کتاب الحوالات؛ صحیح مسلم، کتاب المساقاة: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم :«مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ» ترجمہ:’’مال دار آدمی کا (واجب الادا حق کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔‘‘ سنن ابن ماجہ، کتاب الرہون، باب أجر الأجراء: :«أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ» ترجمہ:’’مزدور کو اس کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔‘‘