مفتی صاحب ! عورتوں کے لیے سرخی یعنی لپ اسٹک لگانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر بے پردگی کا اندیشہ ہو تو کیا کریں؟
عورتوں کے لیے لپ اسٹک (ہونٹوں کی سرخی) لگانا بذاتِ خود جائز ہے، البتہ اگر لپ اسٹک ایسی ہو جو ہونٹوں پر تہہ بنا کر پانی کو جلد تک پہنچنے سے روک دے تو وضو اور غسل کے درست ہونے کے لیے اسے صاف کرنا ضروری ہوگا، ورنہ وضو اور غسل نہیں ہوگا ۔ اسی طرح گھر سے باہر نکلتے وقت بناؤ سنگھار اور زیب و زینت کا ایسا اظہار کرنا جس سے غیر محرم مردوں کی توجہ اور میلان پیدا ہو درست نہیں، البتہ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لیے یا ازدواجی تعلق کے موقع پر لپ اسٹک اور زیب و زینت اختیار کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ پسندیدہ عمل ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں۔
*الدرالمختار:(154/1،ط: دارالفكر)* (ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى (ودرن ووسخ) عطف تفسير وكذا دهن ودسومة (وتراب) وطين ولو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين.(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح. *الفقه الإسلامي وأدلته:(2683/4،ط:دار الفكر)* والتحمير والتبييض وتطريف الأصابع، لكن يستحب الخضاب للنساء بالحناء ونحوه، وأما التحمير ونحوه فيجوز بإذن الزوج وفي داخل البيت، ويحرم بغير إذن الزوج وخارج المنزل. والدليل ما أخرجه أحمد والبخاري عن أنس قال: «لعن رسول الله ﷺ المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال۔