مفتی صاحب ! ایک عورت عمرہ کر رہی ہے،اس کا محرم اس کے ساتھ آدھے راستے تک ہوگا، پھر اس نے کسی اور جگہ اترنا ہے یہ عورت عمرے پر جائے گی،کیا یہ بھی ممنوع ہے؟
عورت کے لیے سفر شرعی کی مسافت یعنی سوا ستتر کلومیٹر کا سفر شوہر یا محرم شرعی کے بغیر کرنا شرعاً جائز نہیں اور سفرِ شرعی کی مسافت سے کم میں بہتر یہی ہے کہ محرم کے بغیر سفر نہ کریں، تاہم اگر مجبوری ہو اور فتنہ کا خوف نہ ہو تو اکیلے سفر کی گنجائش ہے، حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت آئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے: کوئی عورت کسی مرد سے تنہائی میں نہ ملے اور نہ کوئی عورت بغیر محرم کے سفر کرے تو حاضرین میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے فلاں جہاد کے سفر میں جانے کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے، جب کہ میری بیوی حج کرنے جارہی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : جاؤ اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر: 3006) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین راتوں کی مسافت کے بقدر سفر کرے، مگر یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو۔(صحیح مسلم،حدیث نمبر: 414 - (1338) پوچھی گئی صورت میں محرم کا مکمل سفر میں عورت کے ساتھ ہونا ضروری ہے،اس کے بغیر سفر جائز نہیں۔
الصحيح البخاري:(4/ 59،رقم الحدیث:3006،ط:دارطوق النجاۃ) حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا سفيان عن عمرو عن أبي معبد عن ابن عباس رضي الله عنهما: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم فقام رجل فقال: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال: اذهب فحج مع امرأتك. صحيح مسلم:(4/ 102،رقم الحدیث: 414 - (1338)،ط:دارطوق النجاۃ) وحدثنا محمد بن رافع ، حدثنا ابن أبي فديك ، أخبرنا الضحاك ، عن نافع ، عن عبد الله بن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال إلا ومعها ذو محرم .