کیا یہ بات جو کچھ حضرات کہتے ہیں کہ کہیں بھی سفر پر جاؤ تو اگر ایک سے زیادہ افراد ہوں تو کسی ایک کو امیر بنانا چاہیے؟
جی! بالکل، سفر میں جب کئی لوگ ہوں تو کسی ایک سمجھدار کو امیر بنانا چاہیے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جب تین لوگ سفر پر نکلیں تو کسی ایک کو امیر بنائیں"۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے، تاکہ اگر سفر کے دوران کسی معاملے میں آپس میں کوئی اختلاف کی صورت پیش آ جائے تو امیر کی طرف رجوع کیا جائے، تاکہ وہ فیصلہ کرکے اختلاف کو ختم کر دے اور سب کے درمیان نظم و اتفاق برقرار رہے۔
سنن أبي داود:(249/4،رقم الحديث:2608،ط:دار الرسالة العالمية) حدثنا علي بن بحر بن بري، حدثنا حاتم بن إسماعيل، حدثنا محمد بن عجلان، عن نافع، عن أبي سلمة عن أبي سعيد الخدري، أن رسول الله -ﷺ- قال: «إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمروا أحدهم». مرقاة المفاتيح:(2518/6،ط:دار الفكر) وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، أن رسول الله - ﷺ -، قال: إذا كان ثلاثة) ; أي: مثلا (في سفر): والمعنى أنه إذا كان جماعة وأقلها ثلاثة، وكذا إذا كان اثنان، وإنما اقتصر على الثلاثة لما سبق أن الراكبان شيطانان (فليؤمروا أحدهم) ; أي: فليجعلوا أميرهم أفضلهم، وفي شرح السنة: إنما أمرهم بذلك ليكون أمرهم جميعا ولا يقع بينهم خلاف، فيتعبوا فيه، وفيه دليل على أن الرجلين إذا حكما رجلا بينهما في قضية فقضى بالحق نفذ حكمه.