مفتی صاحب! ہومیوپیتھک دوا جس میں 90 فیصد الکحل استعمال ہوتا ہے، اس کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ الکحل کی دو قسمیں ہیں: (1)وہ الکحل جو منقی ،انگور،کھجور یا چھوہارے کی شراب سے حاصل کیا گیا ہو، ایسا الکحل بالاتفاق ناپاک ہے، اس کا کسی بھی قسم کا استعمال اور خریدوفروخت ناجائز و حرام ہے، البتہ اگر اس کے علاوہ شفا کی کوئی صورت نہ ہو اور مرض ایسا شدید ہو کہ جان یا عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو اور مسلمان ماہر طبیب اس کو تجویز کرے تو اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔ (2)وہ الکحل جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلا آلو ،شہد،گنے یا سبزی وغیرہ سے حاصل کیا گیا ہو، اس کا استعمال جائز ہے ،جب تک نشہ آور نہ ہو۔ واضح رہے کہ عام طور پر ہومیو پیتھک ادویات میں جو الکحل استعمال ہوتا ہے، وہ انگور یا کھجور سےحاصل نہیں کیاجاتا، اس لیے ایسی ادویات کا استعمال جائز ہے ، تاہم اگر کسی خاص دوا کے بارے میں یقین ہو جائے کہ اس میں انگور یا کھجور سے کشید کیا گیا الکحل شامل ہے تو اس دوا کا استعمال بغیر ضرورت شدیدہ جائز نہیں۔
تكمله فتح المنعم:(408/3،ط:دارالعلوم) "و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله. و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع". الشامية: (6/ 459،ط:دارالفكر) الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل.