حرام طریقہ علاج و ادویات

بطور علاج گدھی کے دود ھ پینے کا حکم

فتوی نمبر :
1931
حظر و اباحت / حلال و حرام / حرام طریقہ علاج و ادویات

بطور علاج گدھی کے دود ھ پینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل بعض بیماریوں کے علاج کے لیے گدھی کا دودھ ینے کا مشورہ دیا جاتا ہے ، اور لوگ اس مشورہ پر عمل بھی کرتے ہیں ، توکیا علاج کے لیے گدھی کا دودھ پینا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ حرام اشیاء سے علاج کے بارے میں شریعت چند شرائط کے ساتھ جواز کا حکم دیتی ہے ، جو حسب ذیل ہیں : (۱)حرام اشیاء سے علاج کا مشورہ دینے والا کوئی ماہر مسلمان ڈاکٹر ، طبیب ہو ، (۲) اس حرام چیز کے علاوہ کوئی اور ذریعہ علاج نہ ہو (۳) اس اس حرام چیز کے بارے میں یقین یا ظن غالب یہ ہو کہ اس سے مرض ختم یا کنٹرول ہوسکے گا ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں گدھی کا دودھ بطور علاج پینا اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا جب کوئی اور علاج موجود نہ ہواور یہ علاج بھی کسی ماہر طبیب نے تجویز کیا ہو ۔

حوالہ جات

الدرالمختار مع رد المحتار : (6/ 340، ط: دارالفكر)
(وكره ‌لحم ‌الأتان) أي الحمارة الأهلية خلافا لمالك (ولبنها .... قوله ولبنها) لتولده من اللحم فصار مثله منح .

الدرالمختار : (6/ 389، ط:دارالفكر)
وكذا كل تداو لا يجوز إلا بطاهر وجوزه في النهاية بمحرم ‌إذا ‌أخبره ‌طبيب ‌مسلم أن فيه شفاء ولم يجد مباحا يقوم مقامه. قلت: وفي البزازية ومعنى قوله عليه الصلاة والسلام «إن الله لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم» نفي الحرمة عند العلم بالشفاء دل عليه جواز شربه لإزالة العطش اهـ وقد قدمناه (و) جاز إساغة اللقمة بالخمر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
30
فتوی نمبر 1931کی تصدیق کریں